سلامتی کونسل کے اجلاس برائے مشرق وسطیٰ، بشمول مسئلہ فلسطین پر سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

9

 ‎اقوام متحدہ، 5 اگست ( اے پی پی):  سلامتی کونسل کے اجلاس برائے مشرق وسطیٰ، بشمول مسئلہ فلسطین  پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے  بیان میں کہا ہے کہ ‎یرغمال بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے،یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ یہ مطالبہ جون میں ای-10 گروپ بشمول پاکستان کی طرف سے پیش کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے میں بھی واضح طور پر شامل تھا۔

‎انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا ہے۔  یہ اقدامات صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، بشمول جنیوا کنونشنز، کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کردہ پابند احکامات کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ ‎ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن  کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اب مکمل قحط کے دہانے پر ہے۔ لوگ اس لیے نہیں بھوکے مر رہے کہ خوراک دستیاب نہیں، بلکہ اس لیے کہ خوراک تک رسائی روک دی گئی ہے۔

‎آئی پی سی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بدترین قحط کا منظرنامہ اب حقیقت بن رہا ہے۔یونیسف نے اس صورتحال کو بچوں کے لیے تکالیف کا مکمل طوفان قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے “عظیم انسانی تباہی” سے تعبیر کیا ہے۔

‎سفیر نے کہا کہ ہم فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، مکمل اسرائیلی انخلا، یرغمالیوں کی رہائی، اور انسانی امداد کی آزادانہ فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی کے نتیجے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا، مگر اسرائیل کی جانب سے اس جنگ بندی سے یکطرفہ انحراف کے سبب مزید رہائی ممکن نہ ہو سکی۔

‎انہوں نے کہا کہ ہم مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، جو دشمنیوں کے خاتمے اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا قابلِ عمل نقشۂ راہ پیش کرتی ہے جبکہ ‎پائیدار امن کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی افق درکار ہے جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو  اور جس کا مقصد 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار، قابلِ بقا اور مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہو۔ حالیہ اعلیٰ سطحی کانفرنس جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کا پرامن حل اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد تھا، ایک بروقت پیش رفت تھی۔ اب اسے عملی، مربوط اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں سے مکمل کرنا ناگزیر ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں بالآخر مطلوبہ امن اور استحکام ممکن ہو سکے۔

‎سفیر نے کہا کہ حقوق عالمگیر اور ناقابلِ تقسیم ہیں۔ انہیں سرحدوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، اور انصاف کبھی بھی انتخابی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ قانونی، سیاسی اور اخلاقی تقاضا بالکل واضح ہے  کہ ہمیں اب اقدام کرنا ہوگا تاکہ اسرائیل کی وحشیانہ اور غیر قانونی جنگ اور فلسطینی عوام کی ناقابلِ تصور تکالیف کا خاتمہ ہو۔ انسانیت اور دونوں طرف کے عام شہریوں کی عزت و حرمت اس سے کم پر راضی نہیں ہو سکتی۔