اسلام آباد، 6 اگست (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان اسلام آباد گرلز کالج میں پیڈل کورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھیل اور جسمانی سرگرمیاں ہمیشہ سے مکمل تعلیم کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ جس طرح ہمارا معاشرہ ترقی کر رہا ہے، یہ دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے کہ تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ اپنی طالبات کی ذاتی اور جسمانی نشوونما کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔
تقریب میں فرح ناز اکبر، پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم اور وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ، محی الدین وانی، کالج کی پرنسپل، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی ایک کثیر تعداد سمیت وزارت بین الصوبائی رابطہ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا یہ سہولت محض ایک کھیل کا میدان نہیں، بلکہ یہ ایک opportunity، ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سرکاری گرلز کالج میں اس کورٹ کا افتتاح خاص طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آج کی نوجوان خواتین پرعزم، باصلاحیت اور ہر میدان میں، چاہے وہ تعلیم ہو، ٹیکنالوجی ہو، حکومت ہو یا کھیل، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتیں ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جو ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرے۔ اور آج، ہمیں فخر ہے کہ ہم سازگار ماحول بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
ملک میں کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے رانا ثناءاللہ نے کہا مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے پہلے ہی ICG، ICB، اور F-8 کالجز میں 3 پیڈل کورٹس قائم کر دیے ہیں۔ ہم طلباء میں 520 سے زیادہ سپورٹس کٹس، 28,000 ٹریک سوٹس تقسیم کر چکے ہیں، اور 115 مائنڈ گیم رومز تیار کر چکے ہیں تاکہ طلباء اور طالبات میں جسمانی اور ذہنی نشوونما کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔اس کے علاوہ ہم مزید انقلابی اقدامات کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہمارے مستقبل کے منصوبوں میں مزید 5 نئے پیڈل کورٹس، 5 جدید فٹسال گراؤنڈز، 100 مکمل اسپورٹس کٹس، 20,000 ٹریک سوٹس، اور 350 اسپورٹس بائیکس کی تقسیم شامل ہے۔ ان کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر طالبہ کو، چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو، حصہ لینے، مقابلہ کرنے، اور کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم، فرح ناز اکبر نے کہا کہ پیڈل کورٹ کھیل 1969 میں میکسیکو میں ایجاد ہوا اور پوری دنیا میں پھیلتے ہوئے آج ایک مقبول کھیل بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بچوں کو کتابی کیڑا نہیں بنانا چاہتے۔ اس لئے حکومت ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے کیونکہ کھیل بچوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر چست رکھتے ہیں۔











