راولپنڈی ،12اگست (اے پی پی):سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آزادی کا حصول ایک لمبی تحریک اور جدودجہد مانگتا ہے ،قائد اعظم نے برصغیر کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدلے ،پاکستانیوں کو آزادی صرف قوت کردار و نظریہ کی بدولت حاصل ہوئی،معرکہ حق کی چار روزہ جنگ کی کہانی اب شروع ہوئی ہے اور آج اقوام عالم میں ہماری اہمیت بڑھ چکی ہے جس کے پیچھے معرکہ حق ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینیٹر عرفان صدیقی نے منگل کو ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں ’’جشن آزادی اور معرکہ حق ‘‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آزادی کا حصول ایک بڑا معرکہ ہوتا ہے ،1930ء میں علامہ اقبال نے الہٰ آباد خطبے میں کہا کہ میری آنکھیں ایک آزاد ریاست دیکھ رہی ہیں جس کے سترہ سال بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ آزادی حاصل کرنا ایک معرکہ ہے اور اس کا تحفظ ایک بڑا معرکہ ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کا تحفظ کریں۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ مہنگائی میں کمی،سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور بیرونی سرمایہ کاروں کے رجحان سے ملکی معیشت بہترین ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو بچانے والے موجود ہیں اور اپنا کام کررہے ہیں ،ہمارے سپہ سالار اور افواج پاکستان کام کررہی ہے جس وجہ سے ہم رات کو سکون سے سوتے ہیں ،ملک کو دہشت گردی سے پاک کیا جا رہا ہے اور ہمارے نوجوان ملک کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں ۔
ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان شیخ سعید نے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان کو اعزاز ہے کہ آزادی پاکستان کی طلوع صبح کا آغاز یہاں سے اعلان سے ہوا ،ہمارے پاس میوزیم میں وہ تمام آلات موجود ہیں جس سے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کیا اور ہمارے پاس ، ریڈیو پاکستان ڈیجیٹل فیز میں داخل ہوچکا ہے اور ہم آگے کی طرف جارہے ہیں اور آج راولپنڈی میں پوڈ کاسٹ اسٹوڈیو کا بھی افتتاح کردیا گیا ہے ۔
ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی سٹیشن ڈائریکٹر مسرت شارخ نے کہا ہے کہ آج پوری قوم جشن آزادی اور معرکہ کی خوشیاں ایک ساتھ منا رہے ہیں ،آپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کردیا کہ افواج پاکستان اپنا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں،پاک فوج کے شاہینوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ،دشمن کی سازشوں کا قلع قمع کیا گیا اور دہشت گردوں کی کمر کو بھی توڑ دیا گیا،معرکہ حق میں پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے ۔











