اسلام آباد، 25 اگست(اے پی پی):وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے “پاکستان ون” پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عملی جدت و ترقی میں ڈھالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس پلان کے قومی مقابلے کے ذریعے نوجوانوں میں خودروزگاری کے رجحان کو فروغ دیا جائے گا اور ہر صوبے، ہر علاقے، دیہی و شہری طبقے کو “پاکستان ون” میں شامل کیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جائے گا جو ترقی، جدت اور عالمی اعتماد کی پہچان بنے۔ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، ہمت اور ذہانت ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر میں لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو نوکری ڈھونڈنے والی معیشت سے نکل کر نوکری پیدا کرنے والی معیشت بننا ہوگا۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ صنعت کاری، جدت اور ٹیکنالوجی اپنانے سے ہی دنیا کے ممالک نے ترقی کی ہے۔ پاکستان کی برآمدات اس وقت 27 سے 32 ارب ڈالر کے درمیان محدود ہیں جن میں صرف ٹیکسٹائل کا حصہ 17.9 ارب ڈالر ہے۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر سروسز 15 سے 20 فیصد سالانہ بڑھ رہی ہیں اور 2030 تک آئی ٹی برآمدات 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایگری ٹیک اور فوڈ پروسیسنگ ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمدات کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں جبکہ قابل تجدید توانائی پاکستان کو ماحول دوست عالمی منڈیوں میں جگہ دلا سکتی ہے۔ پائیدار مینوفیکچرنگ خطے میں پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع علاقائی تجارت کے بے مثال امکانات فراہم کرتا ہے، اور یہ ملک جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ای پاکستان کے ذریعے فِن ٹیک، ایگری ٹیک اور گرین ٹیک میں نئے نظام تشکیل دیے جا رہے ہیں اور ڈیجیٹل ہنر و جدت میں سرمایہ کاری سے نوجوان آبادی معیشت میں انجن آف گروتھ بنے گی۔











