ہیروز آف پاکستان؛چترال کے معروف سماجی کارکن ہدایت اللہ کی تعلیمی خدمات

18

‎چترال ، 12 اگست ( اے پی پی):  چترال سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن ہدایت اللہ کی تعلیمی خدمات پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں روشنی کی کرن بن چکی ہیں۔ 1988 سے طلبہ کی خدمت کے مشن پر گامزن ہدایت اللہ نے الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے چترال کے طلبہ کے لیے ایک ہاسٹل قائم کیا تاکہ انہیں بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔

‎ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے قیام سے طلبہ سے باہمی رابطہ مضبوط ہوا اور ان کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور حل کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے علاوہ ترقی کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو علم کے ہتھیار سے لیس کرنا ہوگا تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

‎ہدایت اللہ نے اپنی سروس کے دوران ایک ایسے طالب علم کی مثال دی جو بار بار ناکام ہو رہا تھا، مگر اس کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اس کےتعلیمی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی۔
طالب علم نے مالی مشکلات کا ذکر کیا تو ہدایت اللہ نے اس کی یونیورسٹی میں داخلے کا بندوبست کیا۔ اس نوجوان نے بی کام میں ٹاپ کیا، اور پھر پشاور میں ایک دوست کے ذریعے اس کی فیس کا بندوبست کیا گیا۔ آج وہی طالب علم پشاور کے مشہور آئن اسٹائن انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہا ہے۔

‎ہدایت اللہ نے بتایا کہ  ایک طالب علم سے آغاز کیا تھا، لیکن آج ہم ہر سال 100 سے زائد طلبہ کی مالی مدد کر رہے ہیں، ملک بھر کے مختلف تعلیمی ادارے چترال کے طالب علموں کی معاونت کر رہے ہیں۔

‎ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف ادارے ہر سال چترال کے طلبہ کو تقریباً 5 کروڑ روپے کی فیس معاف کر رہے ہیں۔
انہوں نے تعلیمی ادارے کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے اسے پورے پاکستان میں پھیلانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

‎ہدایت اللہ نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا
پاکستان کا یہ خوبصورت خطہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں ایک انمول عطیہ ہے، اور اس کی ترقی کے لیے ہمیں مل کر محنت کرنی ہوگی، تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم ملک کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے حصے کا کام ایمانداری سے ادا کرنا چاہیے۔

‎انہوں نے معاشرے کو پیغام دیا کہ وہ معاشی طور پر کمزور بچوں کی مدد کریں تاکہ کوئی بچہ تعلیمی سفر سے محروم نہ رہے۔