لاہور، 5 ستمبر (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے طویل ترین خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں متاثرہ خاندانوں اور کاشتکاروں کی مشکلات کے فوری حل کے لئے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے اربن یونٹ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کو بحالی پیکیج کی تیاری اور عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مشکلات پر ہمدردانہ غور کیا جائے اور بحالی پیکیج میں امدادی رقوم بڑھائی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب سے متاثرہ کاشتکاروں کے لئے خصوصی بحالی پروگرام تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔ مریم نواز شریف نے متاثرہ علاقوں کا سروے جلد از جلد مکمل کرنے اور اس کے لئے شفاف ترین طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ سروے کے دوران ڈیجیٹل ریکارڈنگ بھی کی جائے گی جبکہ اس مقصد کے لئے اعلیٰ سطح کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے تیار کیا گیا بحالی پیکیج وہ خود اعلان کریں گی۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لئے ہدایت دی کہ جن کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور جو فوری طور پر واپس نہیں جا سکتے، انہیں ہر ضلع میں مارکی میں منتقل کیا جائے۔ سردی کی آمد کے پیش نظر ان مارکیوں میں مرد و خواتین کے لئے الگ الگ سہولتیں، صاف پانی اور کھانا فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات اور غیر قانونی آبادیاں ختم کی جائیں گی اور دریاؤں، ندی نالوں کی گزرگاہوں کو تعمیرات کے لئے ریڈ زون قرار دیا جائے گا۔ سیلاب متاثرین کے گھروں کی بحالی کے لئے “اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام میں بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جب تک متاثرین کے گھر دوبارہ آباد نہیں ہو جاتے وہ چین سے نہیں بیٹھ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران لوگوں کی پریشانی کو قریب سے دیکھا ہے، جب لوگوں کے گھر اجڑ گئے ہیں تو ہم سکون سے کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بے شمار توقعات مجھ سے وابستہ ہیں اور ان پر پورا اترنا میرے لئے اعزاز کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ پنجاب میں فلڈ اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے لئے ماسٹر پلان کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کے لئے طویل المدتی اور قلیل المدتی پائیدار پالیسیوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔











