اسلام آباد، 09 ستمبر (اے پی پی): 16ویں پاک۔ترکیہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک نے معاشی، تجارتی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ قدرتی شراکت دار ہیں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ترک سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔ پاکستان نے ترک سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سہولتوں کی پیشکش کی جبکہ توانائی کے شعبے میں شمسی، ہوا اور پن بجلی کے مشترکہ منصوبوں پر بھی اتفاق ہوا۔
اجلاس میں تیل و گیس کی تلاش، ایل این جی تجارت، گرڈ ماڈرنائزیشن اور توانائی بچت کے منصوبوں پر شراکت داری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کرنے اور مشترکہ بینک ایبل منصوبے شروع کرنے کی تجویز بھی دی۔
جام کمال خان نے کہا کہ ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی میں ترقی قابلِ تحسین ہے،اس شعبے میں مشترکہ اقدامات اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر کام کیا جائے گا۔ پاک فوج اور ترک فوج کے درمیان مشترکہ تربیتی پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
زراعت، سیڈ ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، مویشی بانی اور ماہی پروری میں تعاون بڑھانے جبکہ فارماسیوٹیکل، بایوٹیکنالوجی اور میڈیکل ڈیوائسز کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی تجویز دی گئی۔ جام کمال خان نے کہا کہ ترکیہ کا “Heal in Türkiye” پروگرام صحت سیاحت کے لیے نیا پل ثابت ہوگا۔
تعلیم اور تحقیق کو دونوں ممالک نے ترجیحی شعبے قرار دیا۔ ترکیہ کی اسکالرشپس پاکستانی طلبہ کے لیے قیمتی قرار پائیں جبکہ فیصل آباد میں پاکستان۔ترکیہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نوجوانوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز، آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکنامی، ای کامرس، فِن ٹیک اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
اجلاس میں سائبر سکیورٹی،ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، میری ٹائم اور ایوی ایشن پارٹنرشپ کو فروغ دینے پر بات ہوئی۔ پاکستانی ہنر مند افرادی قوت کو ترکیہ میں سہولت دینے کی تجویز دی گئی جبکہ مشترکہ میڈیا پروڈکشن، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں منظور ہونے والے پروٹوکول کو پاکستان اور ترکیہ کے لیے مستقبل کا روڈ میپ قرار دیا گیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد عوام کے لیے حقیقی فائدے کا باعث بنے گا۔











