انسانی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے ،مصطفیٰ کمال

16

اسلام آباد، 23 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ انسانی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ صحت مند افراد ہی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وہ پمز ہسپتال میں “صدمے سے بحالی تک ، جلی ہوئی جلد کے علاج کے معیار میں بہتری” کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جلنے والے مریضوں کی شرح اموات تشویشناک حد تک زیادہ ہے اور مناسب علاج نہ ہونے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اس لیے بیماریوں سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث پیدا ہوتی ہیں، جبکہ بیماری کا آغاز پیدائش سے ہی ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم دراصل “سک کیئر سسٹم” بنا ہوا ہے جو لوگوں کے بیمار ہونے کا انتظار کرتا ہے، مگر ہمیں اسے حقیقی معنوں میں “ہیلتھ کیئر سسٹم” میں تبدیل کرنا ہوگا۔

سرویکل کینسر کی روک تھام کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا 151واں ملک ہے جہاں اس بیماری سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا، امریکہ اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں بچیوں کو یہ ویکسین دی جا رہی ہے اور بعض ممالک میں تو آٹھویں جماعت میں داخلے سے قبل یہ لازمی قرار دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان میں ہر سال تقریباً پانچ ہزار خواتین اس مرض کا شکار ہو رہی ہیں۔وزیر صحت نے زور دیا کہ اگر بیماریوں سے بچنا ہے تو ویکسینیشن کرانا ہوگی،بیماریوں کی روک تھام، حفاظتی تدابیر اور ابتدائی ویکسینیشن پر توجہ دے کر صحت کے نظام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔