اسلام آباد ، 16 ستمبر (اے پی پی): سپیشل جج سنٹرل ہمایوں دلاور نے اے پی پی میگا کرپشن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 13 ملزمان کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرتے ہوئے فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیئے، ایف آئی اے نے 7 ملزمان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا ۔منگل کوسپیشل جج سنٹرل ہمایوں دلاور کی عدالت میں مقدمے کے نامزد ملزمان فرقان راؤ، معظم جاوید کھوکھر، ارشد مجید چوہدری، محمد غواث، اظہر فاروق، اعجاز مقبول، ثاقب کلیم، خرم شہزاد، ادریس احمد، شاہد لطیف، غلام مرتضیٰ، طاہر گھمن، ساجد علی، عمران منیر اور عدنان اکرم باجوہ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی ۔ سماعت کے دوران ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ شفاف تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تمام ملزمان کے خلاف ٹھوس دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق کئی ملزمان کے اکاؤنٹس میں غیر قانونی طور پر رقوم منتقل ہوئیں، جن کی برآمدگی ضروری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ملزمان نے پراویڈنٹ فنڈ اور سیلری اکاؤنٹس سے رقوم نکلوائیں۔ ایف آئی اےکے اسسٹنٹ ڈائریکٹر(لیگل) خوشنود بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان تنخواہیں بھی لیتے رہے اور پنشن بھی وصول کرتے رہے۔ ملزمان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ پنشن شیٹ میں اپنا نام بھی شامل کرلیتے تھے اورجب پنشن جاری کی جاتی تو اضافی رقم اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پراویڈنٹ فنڈ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹتا ہے جو ادارے کے پاس ان کی امانت ہوتی ہے جب وہ چاہیں اسے لے سکتے ہیں لیکن ملزمان پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ہالی ڈے ان میں واقع نیشنل بنک کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے اور وہاں سے پھر کیش اور دیگر اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ارشد مجید چوہدری 2021 سے لے کر2024 تک ڈی ڈی او رہا ، اس دورمیں اس نے اپنے اکاؤنٹ میں 6کروڑ 61 لاکھ روپے منتقل کئے جبکہ 18کروڑ اور 24کروڑ کے چیکس ان کے دستخطوں سے بنک سے کیش کرائے گئے۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اظہر فاروق جو کہ کیشیئر تھا اور تمام پیسے بنک میں جا کر خود نکلوانے میں ملوث ہے ، اظہر فاروق کے ذاتی اکاؤنٹ میں 8 کروڑ روپے منتقل کئے گئے ۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ عدنان اکرم باجوہ جو کہ اے پی پی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی )رہے ہیں اور مالی معاملات کے ووچرز پر ان کے تصدیق شدہ دستخط موجود ہیں ۔ انہوں نے بطور ای ڈی کئی ووچرز اورچیکس پر غیرقانونی دستخط کئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ غوا ث خان نے بھی بطور ای ڈی 7 کروڑ روپے کے چیک جو کہ تنخواہ کی مد میں تیار کیا گیا ، اس پر دستخط کئے جبکہ ادارے کے ملازمین کی تنخواہ صرف 3 کروڑ روپے بنتی تھی ، 4 کروڑ روپے اضافی غیر قانونی طریقے سے منتقل کئے گئے ۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ادریس چوہدری اور طاہر گھمن دونوں آڈٹ انچارج رہے ہیں ، ان کی ذمہ داری تھی کہ ہر ماہ آڈٹ رپورٹ تیار کرتے ، انہی کے دور میں ایک ملزم کو 90 لاکھ روپے تنخواہ دی گئی جس کا انہوں نے کوئی آڈٹ نہیں کیا جس سے ان کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے ۔ ایف آئی اے کے تفتیشی آفیسر محمد جنید نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ثاقب کلیم کے اکاؤنٹ میں 61ہزار روپے سے زائد رقم پنشن کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفرکی گئی۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم عمران منیر پی ایف سیکشن کے انچارج تھے ، انہوں نے پی ایف اکاؤنٹس سے 5 کروڑ روپے کی رقم ہالی ڈے ان بنک برانچ میں جمع کرائی اور پھر وہاں سے تین الگ الگ چیکس کے ذریعے مذکورہ رقم نکلوا لی۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 21 کروڑ روپے کے چیکس ہالی ڈے ان بنک برانچ سے کیش کرائے گئے جس کے حوالے سے ڈیپارٹمنٹل انکوائری کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم عمران منیر نے 2کروڑ 84 لاکھ روپے کے تین چیکس مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹرانسفر کئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم اعجاز مقبول نے دو چیکس اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی ) کے نام پر وصول کئے جس پر ہم نے تحقیقات اورریکارڈ سے یہ پتہ لگایا ہے کہ کسی ایم ڈی نے نہ ہی ان کی منظوری دی اور نہ ہی اعجاز مقبول کو وہ چیکس وصول کرنے کا کہا ۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تفصیلی انکوائری کرکے مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں ، ہم ملزمان کی گرفتاری چاہتے ہیں ، کئی ملزمان کے اکاؤنٹس میں براہ راست رقم منتقل ہوئی ہے، اس کی ریکوری کےلئے ملزمان کی گرفتاری ضروری ہے لہذا ضمانت کی تمام درخواستیں خارج کی جائیں۔ اس موقع پر اے پی پی انتظامیہ کی جانب سے خرم بیگ ایڈووکیٹ، حسنین حیدر تھہیم اور روحیل ارشاد رانا عدالت میں پیش ہوئے ۔ روحیل ارشاد رانا نے کہا کہ اس کیس کے سیکشن 34 کے تحت تمام ملزمان برابر کے شریک ہیں، ان کی ضمانتیں خارج کی جائیں ۔ دوران سماعت فاضل جج ہمایوں دلاور نے استفسارکیا کہ ملزم فرقان راؤکدھر ہے جس پر ملزم فرقان راؤعدالت میں پیش ہوا۔ عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا وکیل کہاں ہے جس پر ملزم فرقان راؤنے بتایا کہ ان کے وکیل ہائی کورٹ میں مصروف ہیں جس کی بناء پر وہ پیش نہیں ہوسکتے۔ فاضل جج نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں ہے میں آپ کی ضمانت خارج کردوںگا، آپ وکیل کو بلائیں ۔دوران سماعت ملزم غلام مرتضیٰ کے وکیل نے بتایا کہ میرے موکل کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ہے ، یہ اس کی میڈیکل رپورٹ اورتصاویر ہیں ، اسے حاضری سے استثنی ٰ دیا جائے۔ فاضل جج نے میڈیکل رپورٹس دیکھتے ہوئے کہا کہ ایک ہی عام سا پلستر لگا ہوا ہے ، ملزم کو عدالت میں پیش کریں یا میں اس کی ضمانت خارج کردوں گا۔ غلام مرتضیٰ کے وکیل نے کہا کہ ہم ملزم کو ویل چیئر پر عدالت میں پیش کردیتے ہیں لیکن ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ملزم خرم شہزاد کے وکیل قاضی عادل ایڈووکیٹ نے عدالت میں ایف آئی آر پڑھ کر سنائی اور موقف اختیار کیا کہ میرے موکل کے اکاؤنٹ میں نہ تو پیسے گئے ہیں اور نہ ہی اس نے کہیں دستخط کے ہیں جبکہ ملزم ارشد مجید کے اکاؤنٹ میں 9 کروڑ ، اظہر فاروق کے اکاؤنٹ میں 8 کروڑ، بشارت عباسی جو کہ وفات پاچکے ہیں ان کے اکاؤنٹ میں 3 کروڑ ،ملزم غلام مرتضیٰ کے اکاؤنٹ میں 75 لاکھ روپے منتقل ہوئے ، جن ملزمان کے اکاؤنٹس میں رقم گئی ہے ، وہ سب اکاؤنٹس سیکشن میں تعینات تھے اور ارشد مجید منیجر اکاؤنٹس تھے، انہوں نے ہالی ڈے ان بنک برانچ سے پیسے ٹرانسفرکئے اورمجاز اتھارٹی سے منظوری لئے بغیر پی ایف فنڈ سے بھی رقم ٹرانسفرکی۔ دوران سماعت معظم جاوید کھوکھر کی جانب سے ایک جونیئروکیل پیش ہوا اورموقف اختیارکیا کہ میرے وکیل کسی اور عدالت میں مصروف ہیں لہذا سماعت ملتوی کی جائے جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اگروکیل پیش نہ ہوئے تو میں معظم جاوید کھوکھر اور فرقان راؤکی ضمانت خارج کروں گا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پرملزمان فرقان راؤ، معظم جاوید کھوکھر، ارشد مجید چوہدری، محمد غواث، اظہر فاروق، خرم شہزاد، ادریس احمد، شاہد لطیف، غلام مرتضیٰ، طاہر گھمن، ساجد علی وڑائچ ، عمران منیر اور سابق ای ڈی عدنان اکرم باجوہ کی ضمانتیں خارج کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیدیا۔ ایف آئی اے نے 7 ملزمان عمران منیر ، اظہر فاروق، طاہر گھمن، خرم شہزاد، ادریس چوہدری، ساجد علی وڑائچ اور غواث خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرکے ایف آئی اے منتقل کردیا جبکہ ملزمان فرقان راؤ، معظم جاوید کھوکھر، ارشد مجید چوہدری، شاہد لطیف اورعدنان اکرم باجوہ عدالتی حکم سننے سے پہلے ہی عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ عدالت نے دو ملزمان اعجاز مقبول اور ثاقب کلیم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔واضح رہےکہ قومی خبررسا ادارے ’’اے پی پی‘‘ انتظامیہ نے ایک ارب 24 کروڑ روپے کی خردبرد کرنے کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ( ایف آئی اے ) میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائرکی تھی جس پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرکے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔











