اسلام آباد، 10 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کی 68 فیصد بیماریوں کی بنیادی وجہ آلودہ پانی ہے،اگر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا دی جائے تو یہ بیماریاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا موثر نظام موجود نہیں، اس کو پالیسیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بالغ بچوں کی غذائیت اور ماں کی صحت کے حوالے سے پائلٹ پروجیکٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی سالانہ شرح 3.6 فیصد ہے جو خطے میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے، بڑھتی ہوئی آبادی نے نہ صرف وسائل پر بوجھ ڈالا ہے بلکہ صحت کا شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق 43 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ پاکستان خطے میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، اس کے ساتھ ساتھ پولیو کا مرض بھی ابھی تک موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور موجودہ ہیلتھ کیئر سسٹم دراصل “سک کیئر سسٹم” ہے جو مریض کے بیمار ہونے کا انتظار کرتا ہے، جبکہ صحت مند نظام کا اصل مقصد بیماری سے پہلے بچاؤ ہونا چاہیے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ موجودہ نظام کے تحت وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب ریاست تمام مریضوں کا علاج کر سکے۔
وزیر صحت نے زور دیا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہمیں لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ ہیلتھ سسٹم سے منسلک اتھارٹیز کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی جن سے ماحول سازگار ہو اور لوگ بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت سک کیئر سسٹم کو حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے اور صحت مند پاکستان کے لیے پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول، ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو صحت مند ماحول کو فروغ دیں تاکہ بیماریوں سے قبل ہی تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔











