نعت دراصل عشقِ رسول ﷺ کا وہ حسین اظہار ہے جو دل کی گہرائیوں سے جنم لیتا ہے

12

اسلام آباد،05 ستمبر(اے پی پی ): نعت تاریخ کے آئینے میں نعت دراصل عشقِ رسول ﷺ کا وہ حسین اظہار ہے جو دل کی گہرائیوں سے جنم لیتا ہے، یہ محض اشعار کی صورت میں چند الفاظ نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے جس نے صدیوں سے مسلمانوں کے دلوں کو روشنی بخشی ہے۔

اسلام کے ابتدائی دور سے ہی نعت کی روایت موجود ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت حسان بن ثابتؓ کو شاعرِ رسول ﷺ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کی مدح سرائی کی اور دینِ اسلام کے مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیا، یوں نعت گوئی نہ صرف عقیدت کا اظہار بنی بلکہ دین کے دفاع کا ذریعہ بھی ہے۔

وقت گزرتا گیا تو نعت مختلف ادوار میں مزید نکھرتی گئی۔ فارسی اور اردو ادب میں نعت نے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ بڑے شعرا نے اپنے فن کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ رسول اکرم ﷺ کی ذات انسانیت کے لیے سراپا رحمت ہے، برصغیر کی ادبی تاریخ میں نعت گوئی نے ایمان کو تازگی بخشی اور مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

نعت محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ یہ دراصل سیرت النبی ﷺ کا عکس ہے۔ اس کے ہر مصرعے میں ہمیں آپ کے اخلاقِ حسنہ، انسانیت سے محبت اور خدمتِ خلق کا پیغام ملتا ہے۔ یہ صنف ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جب دنیا بھر کے مسلمان خوشی اور عقیدت کے ساتھ اپنے گھروں اور دلوں کو منور کرتے ہیں، تو نعت ہی وہ زبان بنتی ہے جو ان کے جذبات کو سب سے بہتر انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ موقع ہمیں سکھاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اپنی زندگیوں کو بہتر اور اپنے معاشرے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

نعت صدیوں سے ایمان کی تازگی کا ذریعہ رہی ہے اور آج بھی یہ ہماری دینی، روحانی اور ثقافتی شناخت کا لازمی جزو ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے: ہمیں چاہیے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لے کر اپنی زندگیوں میں محبت، انصاف اور خدمتِ خلق کے چراغ روشن کریں۔