اقوام متحدہ، 01 اکتوبر(اے پی پی) :روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار کو ‘‘سب سے فوری نوعیت کے انسانی اور انسانی حقوق کے مسائل’’ میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، پاکستان نے جنرل اسمبلی میں کہا کہ اس بحران کو غیر معینہ مدت تک حل طلب نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پاکستان نے زور دیا کہ عالمی برادری یکجہتی کے وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے پر توجہ دے۔
روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کی صورتِ حال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے او آئی سی کی جانب سے دیے گئے بیان کی تائید کی اور فوری اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے وفود کو یاد دلایا کہ کئی دہائیوں پر محیط بے دخلی،حقوق سے محرومی اور حالیہ دنوں میں میانمار کی ریاست راکھائن میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں نے روہنگیا کی مشکلات کو شدید تر بنا دیا ہے،جس کے نتیجے میں ہزاروں مزید افراد کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا اور انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا۔
پاکستان نے بنگلہ دیش اور دیگر میزبان ممالک کی غیر معمولی فراخ دلی کو سراہتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان ملکوں نے کس قدر بھاری بوجھ برداشت کیا ہے۔ پاکستان کے سفیر نے اس امر پر زور دیا کہ چونکہ پاکستان نے بھی اب تک لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے، اس لیے عالمی برادری کو یکساں یکجہتی اور فوری اقدامات کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ اس بحران کو کم کیا جا سکے۔











