بین الاقوامی دہشت گردی پر بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں،پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں دو ٹوک جواب

13

اسلام آباد، 08 اکتوبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں ایجنڈا آئٹم 109 کے تحت “بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات” پر بھارتی مندوب کے بے بنیاد الزامات کے جواب میں پاکستان کے نمائندے قونصلر محمد جواد اجمل نے بھارتی بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خود ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ملک ہے جو جھوٹ، پروپیگنڈا اور نفرت انگیز بیانیے کے ذریعے علاقائی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

محمد جواد اجمل نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے ہمیشہ امن، مکالمے اور تعاون کا خواہاں رہا ہے۔ پاکستان نے “پہلگام” واقعے کے بعد آزاد اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی،مگر بھارت نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری پامال کی اور 54 بے گناہ شہریوں کو شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کھلی جارحیت کی مثال ہے جو عالمی امن کے لیے خطرناک نظیر قائم کرتی ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا متناسب اور دانشمندانہ حق استعمال کیا، جس کے بعد جنگ بندی معاہدہ امریکہ کی ثالثی اور بھارت کی درخواست پر طے پایا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے “سرحد پار دہشت گردی” کے الزامات دراصل جھوٹ کو بار بار دہرانے کی کوشش ہیں۔ بھارت خطے میں غنڈہ گردی اور ہندوتوا نظریے کے ذریعے نفرت اور عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔ وہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں۔

محمد جواد اجمل نے واضح کیا کہ بھارت نہ صرف اپنے پڑوسی ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے ٹارگٹ کلنگز اور پراکسی آپریشنز بھی چلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن و استحکام کا خواہاں ہے اور جنوبی ایشیا کے عوام ترقی و خوشحالی کے حقدار ہیں، مگر یہ مقاصد دھمکیوں یا دباؤ سے نہیں بلکہ اخلاص، باہمی احترام اور سنجیدہ سفارت کاری سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔