اسلام آباد،30اکتوبر (اے پی پی):قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے بچوں کو جبری اور کم عمری کی شادی سے تحفظ دینے کے لیے نمایاں قانون سازی کی ہے۔وہ مسلم ممالک میں شادی کی عمر سے متعلق قانون سازی بہترین تجربات اور سیکھے گئے اسباق” کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ کانفرنس پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈیولپمنٹ ایڈووکیسی (پودا) نے رائل نارویجین ایمبیسی کے تعاون سے منعقد کی۔بیرسٹر عقیل ملک نے کانفرنس کے منتظمین اور شراکت دار اداروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش، مراکش، مصر اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ بچیوں کے تحفظ اور بااختیار بنانے کا تصور اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ 1929ء کا چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ اس حوالے سے بنیادی قانون ہے جس کے بعد سندھ چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013ء اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025ء جیسے اصلاحی قوانین نافذ کیے گئے جن میں شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرسچن میریج (ترمیمی) ایکٹ 2024ء کے تحت مرد و عورت دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے جو ریاست کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ تمام شہریوں کو ان کے مذہب سے قطع نظر، مساوی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں مسلم ممالک جیسے بنگلہ دیش، مراکش، مصر اور انڈونیشیا کے نمائندگان نے اپنے تجربات اور نقطہ نظر پیش کیے جو اس بات کا مظہر ہیں کہ بچیوں کے تحفظ اور بااختیار بنانے کا تصور اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبوں میں شادی کی عمر سے متعلق قوانین میں ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے آئینی اصولوں اور بین الاقوامی معاہدات، خصوصاً کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (سی آر سی) اور کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈسکرمنیشن اگینسٹ ویمن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کم عمری کی شادی کے منفی سماجی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عمل لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ، غربت کے تسلسل اور صحت کے خطرات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں نکاح ایک مقدس بندھن ہے جو بلوغت، رضامندی اور ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور یہ اصول بچوں کے حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ سے مطابقت رکھتے ہیں۔وزیر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قانون سازی میں ہم آہنگی، موثر عملدرآمد اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گی تاکہ کم عمری کی شادی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔اختتام پر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بچوں کو کم عمری کی شادی سے تحفظ دینا نہ صرف ایک قانونی فریضہ ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری اور قوم کے بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔











