اسلام آباد،24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی سربراہی میں وفاقی کمیٹی برائے زراعت (ایف سی اے) نے خریف فصلوں 2025-26 کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ربیع فصلوں 2025-26 کے پیداوار اہداف کی منظوری دی۔ اجلاس میں صوبائی وزرائے زراعت، سیکرٹری صاحبان اور وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر افسران شریک تھے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور کسانوں کے معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، اس مقصد کے لیے بہتر قیمتوں کا نظام، قرضوں تک آسان رسائی اور معیاری بیج و دیگر زرعی اجناس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کا استحکام قومی ترقی، دیہی خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سیلاب، موسمی تغیرات اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجوں کے باوجود تمام صوبوں نے خریف سیزن میں توقع سے بہتر نتائج حاصل کیے۔ انہوں نے صوبائی محکموں اور کسانوں کی مشترکہ محنت، لگن اور استقامت کو سراہا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تحقیق، اختراعات اور پائیدار طریقہ کار کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔کمیٹی کا بنیادی مقصد صوبوں میں فصلوں کی پیداوار کا جائزہ لینا، زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا تجزیہ کرنا اور آئندہ فصلوں کے لیے اہداف و پالیسی ترجیحات طے کرنا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گنے کی پیداوار 2025-26 کے لیے تخمینہ 84.7 ملین ٹن ہے جو 1.146 ملین ہیکٹر رقبے سے حاصل ہوگی جو گذشتہ اہداف کے مقابلے میں رقبے میں 5.5 فیصد اور پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ چاول کی پیداوار کا تخمینہ 9.417 ملین ٹن ہے جو 3.039 ملین ہیکٹر رقبے سے حاصل ہوگی جو رقبے میں 21.9 فیصد اور پیداوار میں 2.7 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح مونگ بین کی پیداوار 150.8 ہزار ٹن تخمینہ کی گئی جو 170.6 ہزار ہیکٹر رقبے سے حاصل ہوگی جس میں رقبے میں 22.9 فیصد اور پیداوار میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے گندم کی پیداوار کا ہدف 29.678 ملین ٹن جبکہ رقبہ 9.648 ملین ہیکٹر تجویز کیا۔ اس کے علاوہ چنے، آلو، پیاز اور ٹماٹر کی پیداوار کے اہداف بالترتیب 393، 8916، 2788 اور 659 ہزار ٹن مقرر کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گندم کی پالیسی اس طرح وضع کی گئی ہے کہ کسانوں کو منصفانہ امدادی قیمت مل سکے تاکہ وہ اپنی لاگت پوری کرتے ہوئے مناسب منافع حاصل کر سکیں۔ یہ پالیسی حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور بنیادی غذائی اجناس میں خودکفالت حاصل کی جائے۔کمیٹی نے ربیع فصلوں کے لیے بیج کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔ ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ربیع 2025-26 کے لیے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی اطمینان بخش رہے گی۔آبپاشی کے حوالے سے ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے بتایا کہ ربیع 2025-26 کے دوران پنجاب اور سندھ کے لیے پانی کی کوئی کمی متوقع نہیں۔ صوبوں کے لیے 33.814 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی مختص کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے آگاہ کیا کہ نومبر اور دسمبر کے دوران ملک کے زیادہ تر حصوں میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں تاہم جنوری 2026ء میں بارشیں معمول کے مطابق رہنے کا امکان ہے۔ محکمے نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی شدید سردیوں سے متعلق خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی قرضوں کے فروغ کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ سٹیٹ بینک نے مالی سال 2025 کے لیے 2572 ارب روپے کا زرعی قرضوں کا ہدف مقرر کیا جو پچھلے سال کے 2250 ارب روپے کے مقابلے میں 16.3 فیصد زیادہ ہے۔ اس وقت 47 مالیاتی ادارے کسانوں کو قرضے فراہم کر رہے ہیں جن میں 5 بڑے کمرشل بینک، 13 درمیانے درجے کے پرائیویٹ بینک، 6 اسلامی بینک، 2 خصوصی بینک (زیڈ ٹی بی ایل اور پی پی سی بی ایل)، 11 مائیکروفنانس بینک اور 10 دیگر ادارے شامل ہیں۔مالی سال 2025 کے دوران قرض فراہم کرنے والے اداروں نے 2577 ارب روپے جاری کیے جو کل ہدف کا 100.2 فیصد ہے اور پچھلے سال کے 2215 ارب روپے کے مقابلے میں 16.3 فیصد زیادہ ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یوریا اور ڈی اے پی کھادوں کی فراہمی آئندہ ربیع سیزن (نومبر تا دسمبر 2025) میں مستحکم رہے گی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان ملک کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر نے بروقت پالیسیوں پر عملدرآمد، آبپاشی کے بہتر انتظام، مشینی زراعت کے فروغ اور تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا تاکہ زراعت کے شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔











