اقوامِ متحدہ، 08 اکتوبر (اے پی پی ): پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بیرونی دباؤ پر مبنی طریقۂ کار افریقہ کی حاصل کردہ ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں، لہٰذا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ پاکستان نے اس بات پر تاکید کی کہ خطے میں دیرپا امن کا دار و مدار اس امر پر ہے کہ امن کے اقدامات مقامی طور پر ملکیت یافتہ اور علاقائی طور پر تقویت یافتہ ہوں۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کے تعلقات کو “اپنے عہد کی سب سے اہم شراکت داریوں میں سے ایک” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات 2017ء میں طے پانے والے امن و سلامتی میں بہتر شراکت داری کے لیے مشترکہ فریم ورک میں جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے افریقی یونین کی قیادت کو تنازعات کی روک تھام اور قیامِ امن میں اس کے کردار پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ دنیا کے کسی اور خطے کو اس نوعیت کی منظم مشغولیت حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک واضح مثال ہے کہ جب علاقائی آوازوں کو باہمی احترام اور مشترکہ مقصد کے تحت سنا جائے تو وہ عالمی سطح پر عمل کو تشکیل دے سکتی ہیں۔











