چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ کے ایڈیٹر اِن چیف گاؤ آنمنگ کا چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور

4

اسلام آباد،20اکتوبر (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ (سی آئی سی جی) کے ایڈیٹر اِن چیف گاؤ آنمنگ نے چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہےتاکہ نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر کو تیز کیا جا سکے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوجدیدیت کے ذریعے شراکت داری  عالمی حکمرانی میں چین اور پاکستان کے عنوان سے منعقدہ پاک-چین تھنک ٹینک ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (IPDS) اور اکیڈمی آف کنٹیمپریری چائنا اینڈ ورلڈ اسٹڈیز (ACCWS) نے مشترکہ طور پر کیا۔

گاؤ آنمنگ نے کہا کہ معاشرے کے مختلف شعبوں میں تعاون باہمی خوشحالی اور جدیدیت کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور یہ مقصد وسیع پیمانے پر اسٹریٹجک منصوبوں اور چھوٹے مگر بامعنی فلاحی اقدامات کے امتزاج سے حاصل کیا جا رہا ہے،ہم نچلی سطح پر عوام کو حقیقی فائدے پہنچا رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنا رہے ہیں۔

 انہوں نے چین کے عالمی حکمرانی کے اقدام کو دنیا کے لیے ایک بڑی عوامی فلاحی کوشش قرار دیا اور کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی اور روابط مزید تعاون کو فروغ دیں گے، کیونکہ دونوں ممالک جدیدیت کے سفر میں ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

گاؤ آنمنگ نے کہا کہ تھنک ٹینکس اور میڈیا کو “دوہری انجن” کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ خیالات کے تبادلے اور عملی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں مل کر چین اور پاکستان کی جدیدیت اور عالمی حکمرانی میں مشترکہ پیشرفت کی کہانیاں دنیا کو سنا سکتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ CICG نے IPDS کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ ایک مشترکہ تحقیقی مرکز اور علم کے تبادلے کا پروگرام قائم کیا جا سکے۔ یہ مرکز بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI)، عالمی حکمرانی، اور علاقائی مطالعات جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گاان کے مطابق یہ مرکز چین-پاکستان تھنک ٹینکس کے درمیان تعاون کے لیے ایک معیار بنے گا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی خیالات کا ایک ذریعہ ہوگا۔گاؤ آنمنگ نے چین-پاکستان تعاون کی کہانیوں کو عام کرنے کے لیے کتابوں کی اشاعت کے ایک منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک میں ناشرین اور مواد کی ایجنسیوں کے ساتھ پہلے ہی معاہدے ہو چکے ہیں۔یہ پہل صرف چند کتابوں کی اشاعت تک محدود نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی حکمتِ عملی ہے تاکہ اشاعت، ترجمہ، اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے باہمی تفہیم کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مواصلاتی نیٹ ورکس دونوں برادر ممالک کے درمیان رکاوٹوں کو دور کرنے اور تعلقات کو گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ CICG نے پاکستانی مرکزی دھارے کے میڈیا کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں قائم کی ہیں تاکہ خبروں کے تبادلے، مشترکہ رپورٹنگ، اور مواد کے ترجمے کو فروغ دیا جا سکے، تاکہ دونوں ممالک اپنی مشترکہ کہانیاں زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔

گاؤ آنمنگ نے گوادر پورٹ میں جاری عوامی فلاحی منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات میڈیا کے لیے بھرپور مواد فراہم کرتے ہیں اور چین و پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کی علامت ہیں۔حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان میں چین کے سفارت خانے کے ناظم الامورشی یوان چیانگ نے چین-پاکستان شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ قربانیاں دیرپا دوستی اور علاقائی استحکام کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

 انہوں نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خوشحالی کے ذریعے امن کے قیام اور اقتصادی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔شی یوان چیانگ نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ عالمی حکمرانی کا اقدام (GGI) پر بھی روشنی ڈالی جس کا مقصد ایک زیادہ متوازن، جامع اور باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی نظام قائم کرنا ہےجو خودمختاری، بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی، عوامی مرکزیت، اور عملی تعاون کے اصولوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ GGI چین کے دیگر تین عالمی اقدامات عالمی ترقیاتی اقدام (GDI)، عالمی سلامتی کا اقدام (GSI)، اور عالمی تہذیب کا اقدام (GCI) کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور جامع عالمی نظام کے قیام کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نےکہا کہ سی پیک ایک زندہ مثال ہے کہ کس طرح تزویراتی شراکت داری معیشتوں کو تبدیل کر سکتی ہے، روزگار پیدا کر سکتی ہے، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنا سکتی ہے، اور معاشروں کو ترقی دے سکتی ہے۔

تقریب سے دیگر مقررین میں ACCWS کے نائب صدر فان ڈاقی، سابق سفیر مسعود خان، اور IPDS کی صدر ڈاکٹر فرحت آصف نے بھی خطاب کیا۔ اس مکالمے میں پاکستان کے اہم اداروں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔