اسلام آباد، 16 اکتوبر (اے پی پی ): چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خواتین میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور منظم کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں اس مرض کے بارے میں آگاہی اور تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف انٹرنیشنل ہسپتال اور اسلام آباد میریٹ ہوٹل کے اشتراک سے منعقدہ بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب کا مقصد بیماری کی بروقت تشخیص، آگاہی اور عوامی شمولیت کے ذریعے چھاتی کے سرطان کے خلاف جدوجہد کو فروغ دینا تھا۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں معروف انٹرنیشنل ہسپتال اور اسلام آباد میریٹ ہوٹل کے اس مشترکہ اقدام کو سراہا جس کے ذریعے چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پیدا کی جا رہی ہے۔
اکتوبر کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کی حیثیت سے اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ مہینہ صرف گلابی ربن پہننے یا آگاہی مہمات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ اس عزم کی تجدید کا وقت ہے کہ ہم اس موذی مرض کے بارے میں آگاہی اور تعلیم کو وسیع پیمانے پر فروغ دیں جو آج بھی بے شمار زندگیوں کو نگل رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں خواتین میں بریسٹ کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس کے بروقت تشخیص میں رکاوٹ بننے والے معاشرتی رویوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک عدد کے پیچھے ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی ہے وہ جو اپنے خوابوں اور صلاحیتوں کے ادھورے رہ جانے کے دکھ کے ساتھ اس مرض کا شکار ہو جاتی ہے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ذہنی صحت کی بحالی کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ نفسیاتی مشاورت اور سپورٹ گروپس کی سہولیات کو تشخیص سے لے کر صحت یابی تک آسانی سے دستیاب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جسم کی شفا کے ساتھ ذہن کی شفا بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے طبی برادری کو آگاہ کیا کہ پارلیمنٹ نے حال ہی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (ریفارم) ترمیمی ایکٹ 2025ء منظور کیا ہے، جس کے تحت قومی ادارہ صحت (NIH) میں ایک قومی کینسر مریض رجسٹری کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پالیسی سازوں کو ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر کینسر سے بچاؤ اور قابو پانے کے مؤثر اقدامات کے لیے راہنمائی فراہم کرے گا۔چیئرمین سینیٹ نے یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ خواتین کی صحت، کینسر کی بروقت تشخیص، اور تمام افراد کے لیے معیارِ صحت تک مساوی رسائی کو فروغ دینے والی ہر پالیسی اور منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے یا آمدنی کے درجے سے تعلق رکھتے ہوں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی بطور وزیرِاعظم پاکستان ترجیحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ صحت کے فروغ اور عوام کو علاج کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے حامی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب کسی عورت کا علاج نہیں ہوتا یا اس کی آواز نہیں سنی جاتی تو یہ صرف ایک انفرادی المیہ نہیں بلکہ معاشرتی نقصان ہے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خطاب کے اختتام پر بریسٹ کینسر اور ذہنی صحت کے مسائل سے نبرد آزما خواتین کے حوصلے اور ہمت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمیں اجتماعی ہمدردی، آگاہی اور مربوط عمل کے ذریعے ان بیماریوں اور ان سے وابستہ بدنامی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آگاہی، ہمدردی اور اجتماعی عزم کے ذریعے ہم چھاتی کے سرطان اور ذہنی صحت سے جڑے تعصبات کو شکست دے سکتے ہیں، یہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں سے ہمارا عہد ہے۔
آخر میں چیئرمین سینیٹ نے بریسٹ کینسر سے صحت یاب ہونے والی عالیہ آغا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں پنک ربن کی گڈ وِل ایمبیسیڈر نامزد کیا۔











