اقوامِ متحدہ، 28 اکتوبر ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ 1971ء میں چین کی اقوامِ متحدہ میں جائز نشست کی بحالی کا واقعہ کثیرالجہتی سفارتکاری کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔
اقوامِ متحدہ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تاریخی بحالی نے اس امر کی توثیق کی کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی واحد اور جائز نمائندہ ہے، اور یہ بھی واضح کیا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے جسے مادرِ وطن سے کبھی بھی جدا نہیں کیا جا سکتا۔
سفیر نے عالمی معاملات میں چین کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں اپنی جائز نشست کی بحالی کے بعد سے چین نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے دفاع میں ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے، اور عالمی امن، استحکام اور ترقی کا ستون بن چکا ہے۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی عوام دوست حکمرانی اور اسٹریٹجک وژن نے چین کو عالمی استحکام اور تعاون کی ایک محرک قوت بنا دیا ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دوستی پر گہرا فخر محسوس کرتا ہے اور بین الاقوامی تعاون کے لیے چین کے پُرعزم مؤقف اور کثیرالجہتی سفارتکاری کو نئی روح دینے کی اس کی کوششوں کو اعلیٰ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دنیا کو درپیش بےمثال اور ہمہ گیر چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چین اقوامِ متحدہ میں نئی توانائی بھرنے اور عالمی کوششوں کو ایک زیادہ جامع اور شمولیتی کثیرالجہتی نظام کی جانب لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔











