کولمبیا کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ میں پاکستان کا مؤقف

13

‎اقوام متحدہ، 4 اکتوبر ( اے پی پی): پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ دوبارہ سر اٹھاتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں نازک پیش رفت کو پٹری سے اتارنے کا خدشہ رکھتی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگز اور بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی صورتحال 2016 کے امن معاہدے کے تحت حاصل کی جانے والی مشکل کامیابیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور اگر مستقل حمایت نہ ملی تو یہ امید ایک خطرے میں بدل سکتی ہے۔

‎سلامتی کونسل کے اجلاس میں کولمبیا کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے کاؤنسلر محمد کامران تاج نے اس معاہدے کو کولمبیا کی قیادت اور ملکیت میں طے پانے والی کاوش قرار دیتے ہوئے ایک پُرامید اور خوشحال مستقبل کی علامت کہا۔

‎انہوں نے دوبارہ انضمام، دیہی اصلاحات اور بحالیِ انصاف میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہا، لیکن خبردار کیا کہ ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے اور عوامی تحفظ کے مناسب اقدامات کے بغیر عدم استحکام کے تباہ کن چکر کے دوبارہ جنم لینے کا خدشہ موجود ہے۔

‎پاکستان نے کولمبیا کی حکومت کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ مسلسل عدم تحفظ کی صورتحال اور اہم شخصیات پر حملے امن کے عمل پر اعتماد کو متزلزل کر سکتے ہیں۔

‎پاکستانی مندوب نے سینیٹر میگوئل یوریبے ٹُربی کے بہیمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اس امر کی واضح علامت قرار دیا کہ کولمبیا انتخابی عمل کی جانب بڑھتے ہوئے کس قدر نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا اور مسلح گروہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد ترک کریں، مکالمے کی راہ اختیار کریں اور قومی قانون کا احترام کریں۔

‎خصوصی دائرۂ اختیار برائے امن  کی جانب سے پہلی بحالیاتی سزاؤں کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کامران تاج نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت نفاذ انصاف کی فراہمی اور مصالحت کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے توثیقی مشن کے کردار کو بھی سراہا جو کولمبیا میں امن معاہدے کے نفاذ میں مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس ضمن میں بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

‎انہوں نے کہا کہ امن منصوبے پر جامع، پائیدار اور مربوط عمل درآمد ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس وعدے کو حقیقت میں بدل سکتا ہے تاکہ تمام کولمبیائی عوام کے لیے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

‎ کامران تاج نے اعادہ کیا کہ کولمبیا کا امن عمل ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور 2016 کے معاہدے کی ساکھ اس امر سے جُڑی ہے کہ تشدد کو مصالحت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔