گوشت کی ملائیشیا برآمدات سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، برآمدکنندگان کو درپیش مسائل پر غور

12

‏‎اسلام آباد، 19 اکتوبر ( اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت گوشت کی ملائیشیا برآمد سے متعلق  اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

‏‎اجلاس میں گوشت کی برآمدات کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ برآمد کنندگان نے خوراک، مویشیوں کی نسل اور پیداواری لاگت کو گوشت کی ایکسپورٹ میں سب سے بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔

‏‎برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ کولڈ چین انفراسٹرکچر کی کمی، بینکنگ سہولیات کی عدم دستیابی اور ناکافی دستاویزی نظام بھی گوشت برآمدات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

‏‎شرکاء نے ہوائی اڈوں پر کولڈ اسٹوریج کی عدم دستیابی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گوشت کو اکثر ہوائی اڈوں کے باہر گاڑیوں میں رکھنا پڑتا ہے، جو معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

‏‎برآمد کنندگان نے شکایت کی کہ چارے کی بلند قیمتیں اور زمین داروں کی اجارہ داری بھی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت 3.5 ڈالر فی کلو کے حساب سے گوشت برآمد کر رہا ہے جبکہ پاکستان کو 5 ڈالر فی کلو پر عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے، جس سے مسابقت میں فرق آتا ہے۔

‏‎اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کا گوشت معیار کے اعتبار سے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ہے کہ پاکستان کی گوشت برآمدات کو مختلف ممالک تک وسعت دی جائے۔

‏‎انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت گوشت برآمد کنندگان کو درپیش تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ اس شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔