واشنگٹن ڈی سی، 18 اکتوبر ( اے پی پی): وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ پندھرویں وی وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جہاں “سرمائے کی لاگت، قرض اور ترقی کے راستے” کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی۔
وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں سیلابوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور ان کے تسلسل کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو حالیہ برسوں میں شدید قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود سیلاب سے متعلق بچاؤ، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کے اخراجات خود برداشت کر رہی ہے۔
انہوں نے اجلاس میں سی وی ایف-وی 20 سیکریٹریٹ کا شکریہ ادا کیا، جس نے پاکستان کے کلائمیٹ پراسپرٹی پلان کی تیاری میں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت مالی وسائل دستیاب ہیں۔
وزیر خزانہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ موسمیاتی نقصانات کا شکار ممالک کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے گرین کلائمیٹ فنڈ میں فیصلہ سازی کے عمل کو تیز تر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ فنڈز تک رسائی میں تاخیر کے بجائے موثر اور فوری اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔











