آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم  27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئیں ہیں،  اعظم نذیرتارڑ

5

اسلام آباد،13نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں ترامیم  27 ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئیں ہیں۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں وضاحت  پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ  آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم کا مقصدانہیں  27ویں آئینی ترمیم  کے ساتھ ہم آہنگ کرناہے،   آرمی ایکٹ میں جوترمیم کی گئی ہے اس کے تحت آرمی چیف کا عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل ہوا ہے، چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کاعہدہ موجودہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوگا،چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی مدت 5سال ہوگی اورتعیناتی کی تاریخ سے مدت شمارہوگی۔اسی طرح ائیرفورس اورنیوی کے بلوں  میں بھی ضروری تبدیلیاں کی گئیں ہیں، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئیں ہیں، آئینی بینچز نہیں رہے ہیں اور آئین کے تحت کورٹ  قائم کر دی گئی ہے، اس میں پہلی تعیناتی چیف جسٹس صاحب کی ہونی ہے، اس حوالہ سے وزیراعظم سمری جاری کریں  گے،جہاں جہاں آئینی بینچز کا ذکرتھا وہ حذف کرلی  گئیں  ہیں ، میں اس حوالہ سے پورے ایوان کاشکریہ اداکرنا چاہتاہوں۔