لاہور، 4 0نومبر ( اے پی پی ) : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کئے، آج وہی شخص کرپشن کے مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہے اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے پر قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ہتک عزت کیس میں حقیقی پیش رفت ہو چکی ہے اور تمام ثبوت عدالت میں پیش کر دیے گئے ہیں، امید ہے انصاف ملے گا۔ منگل کے روز سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعویٰ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ آج عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جولائی 2017ء میں دائر کیا تھا، مگر بانی پی ٹی آئی کے وکلا اب تک 120 مرتبہ التواء مانگ چکے ہیں۔ آج بھی ان کے وکیل موجود نہیں تھے، ان کے پاس نہ کہنے کو کچھ ہے نہ ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی سیاسی خدمات پوری قوم کے سامنے ہیں، وہ 1988 سے قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن رہے، تین مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب اور دو بار وزیراعظم رہے۔ شہباز شریف نے ہمیشہ عوامی خدمت کی ہے، ترقی پر یقین رکھتے ہیں اور پوری زندگی قوم کی خدمت میں گزاری۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک بھی جھوٹے بیانیے کو شکست ہوئی، ایک غیر ملکی عدالت نے بھی عمران نیازی کو جھوٹا قرار دیا اور جرمانہ عائد کیا۔ یہ شخص اداروں کے خلاف بھی پروپیگنڈا کرتا رہا اور دہشت گرد احسان اللہ احسان کو انٹرویو دیا، کسی مہذب ملک میں ایسا عمل قابل قبول نہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر مکمل یقین ہے اور انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں۔ ماضی میں وائس چیئرمینز نے اسی شہر میں احتجاج کیا تھا، ہم نے ترمیم کر کے انہیں حقوق دلوائے۔ ممکنہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذکر پر انہوں نے بتایا کہ ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر مشاورت جاری ہے۔ ہم آئینی بینچ سے آئینی کورٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ نظام انصاف بہتر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج عدالت آنے کے لیے میں نے وہی راستہ استعمال کیا جو عام سائلین کے لیے ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ ہم نے عدالت میں سچ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت مستحکم ہوئی ہے، پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خود کور کمانڈر ہاؤس جانے کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کی جبکہ زمان پارک کی علیحدہ ویڈیو بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ دونوں ویڈیوز کو جان بوجھ کر خلط ملط کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے اور کسی بھی ملزم کا ٹرائل اس بنیاد پر نہیں رک سکتا کہ وہ کسی منصب پر فائز ہے۔ وزیراعلیٰ ہو یا عام شہری، قانونی کارروائی ہر حال میں ہوتی ہے۔ قبل ازیں لاہور سیشن عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعویٰ کیس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی شہادت قلمبند کرنے کے بعد مزید سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی۔ ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے کیس کی سماعت کی۔ منگل کے روز سماعت پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے اور اپنا بیان قلمبند کرایا۔ سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کے معاون وکیل نے سینئر وکیل محمد حسین چوٹیا کی عدم دستیابی کی بنیاد پر گواہی ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جرح بعد میں کر لیجیے گا، آج ہم بیان قلمبند کر لیتے ہیں۔ عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کاررروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے حلف اٹھا کر شہادت قلمبند کراتے ہوئے عدالت میں بیان دیا کہ مدعی وزیراعظم شہباز شریف ایک معزز اور باوقار سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی سیاسی خدمات سے پوری دنیا واقف ہے۔ انہوں نے شہباز شریف کے مختلف انتخابات میں کامیابیوں اور سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں جن پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ یہ دستاویزات گواہ سے متعلق نہیں تاہم عدالت نے اعتراضات بعد میں دیکھنے کا کہہ کر دستاویزات ریکارڈ پر لے لیں۔عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے 8 اپریل 2017 کو ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شہباز شریف پر پانامہ کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کا جھوٹا الزام لگایا جو بعد ازاں مختلف ٹی وی پروگرامز، جلسوں اور پشاور سمیت متعدد شہروں میں عوامی اجتماعات کے دوران بھی دہرایا گیا۔ انہوں نے ویڈیو کلپس اور اخباری تراشے بھی عدالت میں پیش کیے جن پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ مواد گواہ کا ذاتی نہیں تاہم عدالت نے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی۔ عطاء اللہ تارڑ نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ جھوٹے الزامات سے شہباز شریف کی ذاتی ساکھ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ان کی عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مزید دستاویزات جمع کرانے کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے کہا کہ باقی کاغذات دیگر گواہوں کے ساتھ جمع کرائے جائیں۔ عدالت نے شہادت قلمبند کرنے کے بعد عطاء اللہ تارڑ کو آئندہ سماعت پر جرح کے لیے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی۔











