اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جب پمز ہسپتال بنایا گیااُس وقت آبادی 20 فیصد کم تھی، آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں ،پرانی ایمرجنسی میں صرف 36 بیڈز کی سہولت ہے، ساڑھے 6 ارب روپے کی لاگت سے قائم نئی ایمرجنسی میں 177 بیڈز اور 4 آپریشن تھیٹرز ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پمز اسپتال کی 200 بیڈز پر مشتمل نئے شعبہ ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی کا دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران اسکنندر اور دیگر ٹیم ممبران نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صحت کے شعبے صوبوں کو منتقل کیے گئے ہیں،صحت اور تعلیم صوبوں کے پاس ہے اور صوبوں کے پاس رہنی چائیے، پاپولیشن کی وزارت اور قومی نصاب وفاق کے پاس لانے کی تجویز پر بات ہوئی ہے، کونسلر اور منتخب نمائندوں کا کام گلی محلے کی صفائی، صاف پانی فراہمی اور مقامی صحت نظام کو ٹھیک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹھوس بنیادوں پر مقامی حکومتوں کا ایسا نظام بنانے ہو گا جو بیماریوں سے بچائے۔ انہوں نے کہا ہمیں بیمار پڑنے سے بچنا ہے،احتیاط علاج سے بہتر ہے، حکومت تنہا کچھ نہیں کرسکتی ہے، دنیا کے مہزب معاشرے لوگ بیماریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ میرا اپنا آئیڈیانہیں بلکہ ماہرین کی رائے ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم دیار غیر جانے کے لئے ویزوں کی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ قومیں 500 سال پہلے وہ کام کرچکی ہیں جو ہم آج کررہےہیں، لندن،نیویارک،شنگھائی ایک دن بھی مئیر کے بغیر نہیں چل سکتے ، یہاں ایسے فعال اور موثر نظام پر بھی بات ہونی چاہئے۔











