سینیٹرناصر محمود کی قیادت میں سینیٹ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کا فیڈرل لاجز،ہاﺅسنگ اسکیم ودیگر منصوبوں کا دورہ

60

کوئٹہ،20نومبر(اے پی پی):سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کے چیئرمین ناصر محمود کی قیادت میں کمیٹی نے جمعرات کو فیڈرل لاجز،ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کے منصوبوں وپراپرٹیز اور پی ایچ اے (ایف) کے ہاﺅسنگ اسکیم کا دورہ کیا۔

اس موقع پر کمیٹی ممبران سینیٹرزبلال خان مندوخیل، عبد الشکور خان اچکزئی، حسنہ بانو، خالدہ اتیب،محکمہ ہاﺅسنگ اینڈورکس کے حکام،پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے حکام بھی موجود تھے۔

کمیٹی ممبران نے زرغون روڈ پرو اقع فیڈرل لاجز، ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کے سریاب روڈ پرواقع جائیدادوں اور منصوبوں اور پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے تحت کچلاک میں واقع ہاﺅسنگ اسکیم کا دورہ کیا۔

فیڈرل لاجز کے دورے کے موقع پر کمیٹی ممبران کو بریفننگ کے دوران بتایا گیا کہ فیڈرل لاجز میں بکنگ ودیگر کیلئے سافٹ ویئر بن گیا ہے نظام آن لائن ہو جائے گا۔چیئرمین کمیٹی وممبران نے فیڈرل لاجز میں صفائی کی ابترصورتحال ودیگر پر برہمی کااظہار کیا اورکہاکہ خزانہ کی جانب سے رقم جاری کرنے کے بعد اگر ایک ماہ میں فیڈرل لاجز کی حالت نہیں بدلی تو یہاں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ذمہ داران اگر کام نہیں کریں گے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے، فیڈرل لاجز رہائش کیلئے موضوع ترین جگہ ہے لیکن صورت حال بہتر نہ ہونے سے اس کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں مل رہاکمیٹی ممبران نے سریاب میں اسٹیٹ اراضی پر غیر متعلقہ افراد کے قبضے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سریاب میں واقع سرکاری اراضی پر بعض پرائیویٹ لوگوں کی جانب سے انکروچمنٹ بنائی گئی ہیں اس کے علاہ بنائے گئے مکانات میں بلوچستان کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش پذیر ہیں۔

 بعدازاں کمیٹی ممبران نے سریاب میں سرکاری زمین کے حوالے سے مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے ممبران نے کہاکہ معلومات ملنے کے بعد کمیٹی اس حوالے سے غور کریگی۔ کمیٹی چیئرمین ناصر محمود کہاکہ اراضی واگزار کرانے کیلئے آئی جی پولیس کو طلب کریں گے۔

 چیئرمین کمیٹی ناصر محمود کی قیادت میں کمیٹی ممبران نے پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے کچلاک میں زیر تعمیر اسکیم کا دورہ کیا کمیٹی ممبران کو پاکستان ہاسنگ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد نے اسکیم سے متعلق بریفننگ دی۔ بریفننگ کے دوران بتایا گیا کہ 86 ایکڑ پر محیط اسکیم میں کل 1350 ہاسنگ یونٹس 714 مکانات اور 636 اپارٹمنٹس ہیں 57 فیصد کام مکمل ہوا ہے اسکیم پر جولائی 2020 میں کام شروع ہوا اسکیم کو 10 پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے 4 پیکجز پر کام جاری ہے، اسکیم کا 28 کینال ایریا کمرشل ہیں، اسکیم کے بجلی، گیس، پانی کے مسائل کیلئے کام جاری ہے۔

 اس موقع پر سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہاسنگ اینڈ ورکس نے اسکیم کے الاٹیز کے خدشات و تحفظات بھی سنیں۔ کمیٹی چیئرمین اور ممبران نے الاٹیز کے مسائل سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ اسکیم کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کے علاہ ڈی جی اسٹیٹ کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔