پنجاب کی جیلوں سے رہا ہونے والے اسیران کی سماجی و معاشی بحالی کیلئے “نیا آغاز” پروگرام کا اجراء

2

لاہور 22 جولائی:( اے پی پی ) وزیراعلیٰ پنجاب جیل ریفارمز ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے پنجاب کی جیلوں میں اسیران کی سماجی و معاشی بحالی کیلئے “نیا آغاز” پروگرام کا اجراء کر دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت مستحق قیدیوں کو رہائی کے وقت قرضِ حسنہ کے اصول کے مطابق دو لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ دورانِ قید حاصل کی گئی فنی تربیت سے متعلق چھوٹے کاروبار کا آغاز کر سکیں یا اپنے پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ اسیران کی فلاح اور بحالی کے اس منصوبے کے تحت پنجاب پریزن، محکمہ داخلہ پنجاب اور اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

تقریب میں چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان، سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، سپیشل سیکرٹری داخلہ فیصل فرید، آئی جی پریزن میاں سالک جلال، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، چیف کریڈٹ آفیسر شہزاد اکرم، ڈپٹی سیکرٹری تہنیت بخاری، چیف سائیکالوجسٹ پریزن سعدیہ ظفر اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ڈی آئی جی پریزن احمد نوید گوندل اور سی ای او اخوت اسلامک مائیکروفنانس ڈاکٹر کامران شمس نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

 اس موقع پر سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان نے منصوبے کی تفصیلات بارے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں ہنرمند اسیر پروگرام کے تحت قیدیوں کو 23 مختلف انڈسٹریز بارے تکنیکی تربیت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ تمام جیلوں میں باقاعدہ سرٹیفائیڈ ووکیشنل ٹریننگ پروگرام بھی جاری ہیں۔ “نیا آغاز پروگرام” کے ذریعے انہی مہارتوں کو روزگار میں تبدیل کرنے کیلئے مستحق اسیران کو بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت اخوت نے ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا گردشی فنڈ مختص کیا ہے۔ مستحق درخواست گزاروں کو دو لاکھ روپے تک قرضِ حسنہ فراہم کیا جائے گا جس کی واپسی 36 ماہ کی مساوی ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ قرض کی واپسی سے حاصل ہونے والی رقم دوبارہ فنڈ میں شامل کی جائے گی تاکہ مزید مستحق افراد بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ بریفنگ کے مطابق پریزن ڈیپارٹمنٹ رہائی سے قبل متعلقہ اسیران کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد قرض کیلئے سفارش کرے گا جبکہ قیدیوں کے دورانِ قید طرزِ عمل اور حاصل کردہ فنی تربیت کو اہلیت جانچنے میں مدنظر رکھا جائے گا۔

 قواعد کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ آئندہ تین ماہ کے دوران رہا ہونے والے اہل قیدیوں کی نشاندہی کریں گے تاکہ رہائی سے قبل قرض کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔ اخوت ہر درخواست گزار کی اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق آزادانہ جانچ پڑتال کرے گا جبکہ تمام اہل اسیران کو رہائی سے قبل “نیا آغاز پروگرام” سے متعلق مکمل آگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اخوت ممکنہ درخواست گزاروں کیلئے آگاہی سیشنز بھی منعقد کرے گا جبکہ منصوبے کے تمام انتظامی اور آپریشنل اخراجات بھی اخوت خود برداشت کرے گا۔

 اس پروگرام کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب یا پنجاب جیل خانہ جات پر کسی قسم کی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی۔ اخوت قرضوں کی منظوری، مسترد ہونے کی وجوہات اور دیگر تمام اعداد و شمار پریزن ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کرے گا۔ یہی بات بھی واضح کی گئی کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی فہرستوں یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت نامزد افراد قرض حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

 چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاسود قرضوں کے ذریعے رہا ہونے والے اسیران کو مالی خود کفالت اور معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پریزن ریفارمز وزیراعلیٰ پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور جیلوں کو حقیقی معنوں میں اصلاحی مراکز بنانے کیلئے حکومتِ پنجاب کی جانب سے مثالی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اسیران کو جیل میں ہنرمند بنانے کیلئے متعدد تربیتی پروگرام کامیابی سے جاری ہیں۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اس موقع پر کہا کہ حکومتِ پنجاب قیدیوں کی جامع بحالی اور رہائی کے بعد معاشرے میں دوبارہ کامیاب انضمام کیلئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “نیا آغاز” پروگرام کا مقصد غربت میں کمی، معاشرتی بحالی اور رہا ہونے والے اسیران کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ رہا ہونے والے اسیران کو معاشرے کا فعال، خود کفیل، اور مفید شہری بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں کو تعلیم، تربیت، اخلاق اور نظم و ضبط کے ذریعے حقیقی اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ “نیا آغاز” پروگرام مکمل طور پر قرضِ حسنہ کے اصول کے مطابق سود سے پاک مالی معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ سزا مکمل کرنے والے اسیران کی معاشرے میں باعزت واپسی کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔

 انہوں نے بتایا کہ اخوت اب تک 45 لاکھ خاندانوں کو 500 ارب روپے کے بلاسود قرض فراہم کر چکا ہے۔ آئی جی پریزن میاں سالک جلال نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں میں قائم ٹیوٹا اور پی وی ٹی سی تربیتی مراکز سے اب تک 28 ہزار سے زائد اسیران تربیت اور سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں جبکہ اس وقت بھی 6500 اسیران مختلف فنی مہارتیں حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسیران کی ذہنی و سماجی بحالی کیلئے پنجاب کی جیلوں میں 74 ماہرینِ نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔