سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس

10

اسلام آباد، 06نومبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ،جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2025-26 کے تحت پہلی سہ ماہی کی منظوری اور فنڈز کے اجراء کا جائزہ لیا گیا اور اہم قومی منصوبوں پر پیش ر  فت سے متعلق اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لئے اجلاس ہوا۔پلاننگ اینڈ فنانس ڈویژنز کی بریفنگ کے دوران کمیٹی نے کہا کہ دوسری سہ ماہی تک تقریباً 330 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی لیکن رقم کی منظوری کے خلاف حقیقی اخراجات کم رہے۔ کمیٹی نے مختص فنڈز کے استعمال اور اخراجات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ دونوں ڈویژنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مالی سال کے اختتام تک انتظار کرنے کی بجائے فنڈز کے استعمال کو تیز کرنے کے لئے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ معاملہ اٹھائیں ۔ کمیٹی کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، وزارت اقتصادی امور اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی اے)نے سکھر-حیدرآباد-کراچی موٹروے (ایم۔6) کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نظرثانی شدہ پی سی 1 کی منظوری دے دی گئی ہے اور سعودی فنڈ برائے ترقی اور اسلامی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ کمیٹی نے حاصل کئے گئے سنگ میل کو سراہتے ہوئے متعلقہ محکموں کو مزید تاخیر سے بچنے کے لئے عملدرآمد میں تیزی لانے اور طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پی ایس سی پی کے بارے میں اپنی سابقہ سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ صوبہ سندھ سے ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور فنانس ڈویژن کی وزارتوں کے مطالبات کے تحت ناکارہ پاک پی ڈبلیو ڈی کی سکیموں کو صوبائی خودمختاری کے اصول کے مطابق متعلقہ صوبائی حکومتوں کو منتقل کیا جائے۔ کمیٹی نے پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ارشد ندیم/شہباز شریف ہائی پرفارمنس سپورٹس اکیڈمی کے قیام کی بھی حمایت کی اور اسے ایک اہم قومی اقدام قرار دیا۔ چیئرپرسن نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ارشد ندیم ایک منفرد ٹیلنٹ  کے حامل کھلاڑی ہیں جو قوم کیلئے باعث فخر ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس منصوبے کی ترقی مستقبل کی نسلوں کو ملک کی نمائندگی میں اسی طرح کی عمدہ کارکردگی کے لئے کوشش کرنے کی ترغیب دینے اور حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ضروری ہے تاہم  کمیٹی نے مجوزہ ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، شیخوپورہ، فیض احمد فیض کمپلیکس، نارووال اور علامہ اقبال کلچر اینڈ ریسرچ سینٹر، سیالکوٹ کی توثیق نہیں کی اور کہا کہ ان منصوبوں کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایسے ہی ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ یہ سفارش کی گئی تھی کہ ترقیاتی اخراجات کو مزید دباؤ اور اختراعی اقدامات کی طرف راغب کیا جائے۔ کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو نئے منصوبوں کی تشکیل میں صوبائی توازن برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں سینیٹرز سعدیہ عباسی، جام سیف اللہ خان، شہادت اعوان، سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔