اسلام آباد، 4 نومبر (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے دوسری ورلڈ سمٹ برائے سماجی ترقی کے موقع پر دوحہ میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور لسانی رشتوں پر مبنی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور عوامی رابطوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر زرداری نے 2024 میں دستخط شدہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں گہرائی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ CASA-1000 منصوبے کی بحالی مشترکہ خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے تاجکستان کو پاکستان کے ذریعے تجارت اور روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی اور براہِ راست پروازوں کی بحالی پر غور کی تجویز پیش کی۔ صدر زرداری نے اگست 2025 میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشق “دوستی-II” کو سراہا اور دفاعی تعاون و استعداد کار میں معاونت کی پیشکش کی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تاجکستان کے صدر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو تاجکستان کے دورے کی دعوت دی جسے صدرِ مملکت نے قبول کرلیا۔
خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان کے سفیر برائے قطر بھی اس موقع پر موجود تھے۔











