اسلام آباد، 07 نومبر(اے پی پی ): وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز جلد ہو جائے گا۔دو نجی کمپنیوں کو براہ راست پروازوں کی بنگلہ دیش نے اجازت دے دی ہے۔
وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بنگلہ دیش نے دو پاکستانی ایئرلائنز ’’فلائی جناح‘‘ اور ’’ایئر سیال‘‘ کو دونوں ممالک کے درمیان پروازیں چلانے کی اجازت دی ہے۔انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس نے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے سیاسی اور اقتصادی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں قیادت کی سطح پر رابطے قائم ہوئے ہیں۔
وزیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ دو لاکھ میٹرک ٹن چاول کی برآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جس میں سے پچاس ہزار میٹرک ٹن پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری ویزا کے طریقہ کار کو بھی ہموار کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر صارفین کو نئے آر ایل این جی گیس کنکشن فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی کی قیمت سوئی گیس سے زیادہ لیکن ایل این جی سے کم ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق نے ایوان کو اپ ڈیٹ کیا کہ ٹول فری ہیلپ لائن 1099 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بشمول تشدد کے کیسز پر مفت قانونی مشورہ اور مدد فراہم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ سیالکوٹ کھاریاں موٹروے چھ لین پر کام جاری ہے اور 2028 میں مکمل ہونے کی امید ہے۔
’’دی نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹ بل 2025‘‘ اور ’’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2025‘‘ ایوان میں پیش کیا گیا۔
اجلاس میں معمول کا ایجنڈا نمٹائے جانے کے بعد ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس پیر کی شام ساڑھے چار بجے تک ملتوی کردیا۔











