وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی خیبر پختونخوا کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے نمائندہ کلسٹرز سے ملاقات

9

اسلام آباد،07 نومبر (اے پی پی ): وزارتِ صنعت و پیداوار کے زیرِ اہتمام وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی خیبر پختونخوا کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں  کے نمائندہ کلسٹرز سے ملاقات ہوئی۔ اجلاس میں ایکٹنگ سی ای او سمیڈا  نادیہ، وزارتِ صنعت و پیداوار کی ایڈیشنل سیکرٹری اور معاونِ خصوصی کے ڈائریکٹر جنرل بھی شریک تھے۔

ہارون اختر خان نے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا وژن برائے مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز  پیش کیا اور کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے ایس ایم ایز کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ خواتین کی کاروباری شمولیت اور ہنرمندی کے فروغ سے معاشی ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استحکام دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایس ایم ایز کو بینکوں کے ذریعے مالی سہولیات فراہم کرنے اور جدید کاروباری طریقہ کار متعارف کرانے کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔

اجلاس کے دوران سمیڈا کی جانب سے بتایا گیا کہ موبی لنک کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت اب اسمارٹ فون کے ذریعے آن لائن بینک رجسٹریشن ممکن ہو گئی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان ڈی-8 ممالک کے درمیان ایس ایم ای تعاون کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

نمائندگان نے وزارتِ صنعت و پیداوار اور حکومتِ پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے فرنیچر اور شہد کے شعبوں میں برآمدی امکانات کو اجاگر کیا۔ ہارون اختر خان نے یقین دلایا کہ سمیڈا ان شعبوں میں تکنیکی معاونت، ڈیزائن اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے سہولیات فراہم کرے گا تاکہ ایس ایم ایز علاقائی و عالمی سطح پر مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ایس ایم ایز چیلنجز کے باوجود شاندار کام کر رہے ہیں، اور صوبائی حکومت کے ساتھ رابطہ بڑھا کر صنعتی اسٹیٹس کے قیام کے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔

ہارون اختر خان نے اختتام پر کہا کہ ایس ایم ایز کے فروغ سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔