نجکاری کا مقصد اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی سطح پر بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمدعلی کی پریس کانفرنس

8

اسلام آباد ، 03 نومبر (اے پی پی ):وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نجکاری کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے، نجکاری میں عالمی سطح کے مالیاتی ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا جا رہا ہے، نجکاری کا مقصد اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی سطح پر بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

پیرکے روز  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور دیگر وفاقی وزراء اور حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران  ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں نجکاری کے حوالے سے اعلیٰ قومی قیادت بھرپور عزم رکھتی ہے اور  وزیراعظم محمد شہباز شریف  کی قیادت میں نجکاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے  جبکہ  نجکاری کمیشن کی استعداد کار کوبھی  بڑھایا جا رہا ہے کیونکہ اگر نجکاری کمیشن میں استعداد نہیں ہوگی تو نجکاری میں مسائل ہوسکتے ہیں ۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ہم نے گزشتہ چار ماہ کے دوران نجکاری کمیشن کی استعداد کار میں اضافہ کےلئے بھرپورکام کیا ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں نجکاری  کے عمل  میں معاونت حاصل ہوگی۔ انہوں نے  مزید کہا کہ  نجکاری پروگرام 2024 تا2029 میں 24 ادارے نجکاری کمیشن کو دیئے گئے، ان پر کام کےآغاز پر تین مراحل مختص کئے گئے  جن پرعملدرآمد رجحانات، سرمایہ کاروں کی دلچسپی  سمیت معیشت  اوردیگرعوامل کو پیش نظر رکھا جائے گا۔

قومی فضائی  کمپنی پی آئی اے  کی نجکاری کے حوالے سے  گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم ٹرانزیکشن ہے جس  کےلئے سرمایہ داروں  سے قریبی رابطے میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی رکھنے والے تمام گروپ انتہائی تجربہ کار ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس کو کامیاب بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  انشاء اللہ رواں سال کے اختتام سے قبل پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے گا،  پی آئی اے عالمی سطح پر ایک اہم فضائی کمپنی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ  اس گروپ  کو اہمیت دی جائے جو حکومت کو ادائیگی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے میں بھی سرمایہ کاری کرے تاکہ نئے طیارے  دستیاب ہوں اور تمام روٹس پر طیارے چلائے جا سکیں۔

 مشیر نجکاری محمد علی نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے حوالہ سے کہا کہ اس کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے، اگر ایویلیوایشن کے مطابق آفر ہوئی تو آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن آج سے دو سال پہلے کے مقابلے میں بہت ہی مختلف پوزیشن پر ہے، وزیر خزانہ اور حکومت کی اقتصادی ٹیم کی کاوشوں سے آج قومی معیشت کہیں بہتر ہے، دو سال پہلے ڈیفالٹ کی باتیں کی جا رہی تھیں، آج ہمارا یورو بانڈ کسی ڈسکاؤنٹ  پرٹریڈ نہیں کر رہا ، حکومت معاشی استحکام کیلئے پرعزم ہے، ہماری کریڈٹ ریٹنگ کہیں بہتر ہوئی ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے اثاثوں کی مالیت بھی کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایچ بی ایف سی میں بہتر آفر نہ ملی تو دوبارہ کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کا شعبہ انتہائی اہم ہے، ہم نے آئیسکو، گیپکو اور فیسکو سے نجکاری کا عمل شروع کیا ہے، یہ تین ڈسکوز پنجاب میں ہیں، ان کی کارکردگی اچھی ہے،  اس پر کافی کام کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز انتہائی اہم اثاثہ ہیں، ان کی نجکاری میں بجلی کی فراہمی اور درست قیمت کو یقینی بنایا جائے گا، ان کا ری سٹرکچرنگ پلان مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سی پراپرٹیز تھیں جو ان کی ملکیت تھیں لیکن ان کے نام پر نہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے مسائل کے خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نجکاری کے بعد قومی اثاثوں کی کارکردگی بہتر ہو، عوام کو اچھی سروس ملے، میرٹ پر مبنی پالیسی کے تحت درست نجکاری یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو بھی اہمیت دیتے ہیں تاکہ مسابقتی بنیادوں پر مارکیٹ اکانومی کو فروغ دیا جا سکے اور ملک میں جدت طرازی اور نئی نئی ایجادات کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

 مشیر نجکاری محمد علی نے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ یہ دو سیکٹر ایسے ہیں کہ اگر ان میں مارکیٹ بیس مسابقت نہ ہو تو مارکیٹ ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی نجکاری سے قبل ری سٹرکچرنگ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ حکومت، صارفین اور سرمایہ کاروں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو سکے۔