ملتان،03 نومبر (اے پی پی ): ویمن یونیورسٹی ملتان میں شعبہ اسلامیات و عربی کے زیراہتمام پانچویں دو روزہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس شروع ہوگئی۔
ویمن یونیورسٹی ملتان میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا “نوجوان نسل کو درپیش فکری و سماجی چیلنجز اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں ان کا حل”۔ اس کانفرنس کا مقصد نوجوانوں کو درپیش فکری انتشار، معاشرتی الجھنوں اور اخلاقی زوال کے تناظر میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا ۔ مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر کلثوم پراچہ نےخطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس ایک رسمی علمی اجتماع نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی تحریک ہے اس کا مقصد ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس روشن سر چشمہ ہدایت سے جوڑیں جس نے صدیوں سے انسانیت کو عزت وقار عدل اور توازن کی راہ دکھائی ہے۔ رسول اللہؐ کی ذات ہر عہد ہر قوم اور ہر تہذیب کے انسانوں کے لیے روشنی اور رہنمائی کا مینار ہے، آج نوجوان ایک ایسے عہد میں زندہ ہے جسے عصر تغیر وتلاطم کہا جا سکتا ہے ٹیکنالوجی ابلاغ اور گلوبلائزیش نے زندگی کے ہر گوشہ کو بدل کر رکھ دیا ہے یہ ترقی جہاں سہولیات لائی ہے وہیں نوجوانوں کے ذہنوں میں فکری انتشار نظریاتی ابہام اور اخلاقی زوال اور روحانی خلا بھی پیدا کر گئی ہے۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع نوجوان نسل کو درپیش فکری و سماجی چیلنجز اور سیرت النبیؐ کی روشنی میں رہنمائی ہے ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ نے ظلم و جہالت کے اندھیروں میں انسان کو علم، کردار اور انسانیت کی روشنی عطا کی آج کی نوجوان نسل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مغربی فکر کی یلغار کے باعث فکری انتشار کا شکار ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے نوجوانوں کو امت کا ستون قرار دیا اور ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی۔ آج اگر ہم نوجوانوں کو سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات سے جوڑ دیں تو انتہاپسندی، تشدد، اخلاقی زوال اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل از خود ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی کانفرنسز نہ صرف فکری تربیت کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ طلبا و طالبات کو اپنی مذہبی اور اخلاقی شناخت سے جوڑتی ہیں نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات خواتین کے لیے بھی ایک مضبوط رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ تعلیم، اخلاق، حیا، اور کردار سازی سیرتِ نبوی ﷺ کے ایسے پہلو ہیں جنہیں آج کی نوجوان نسل کو اپنانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی سیرت النبی ﷺ اور اخلاقی تربیت سے متعلق لیکچرز، ورکشاپس اور تحقیقی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھے گی تاکہ نئی نسل کو دین اسلام کی اعتدال پسند، علمی اور روشن تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکے۔کلیدی خطاب ڈاکٹر عبدالقادر ہارون (اردن) نے پیش کیا۔ انہوں نے سیرت النبی ﷺ میں موجود عقلی و روحانی توازن پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ثابت کیا کہ علم و ایمان لازم و ملزوم ہیں۔ آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ میں موجود علم، اخلاق اور رحمت کے امتزاج کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ سیرت النبی ﷺ ہی آج کے فکری و سماجی بحرانوں کا حقیقی حل ہے۔نامور محقق ڈاکٹر سعید الرحمن نے کہا کہ جدید معاشرت میں سب سے بڑا چیلنج نوجوانوں کی شناخت کا بحران ہے۔ مغربی ثقافت نے ہماری اقدار اور نظریاتی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن سیرت النبی ﷺ میں اس کا مکمل حل موجود ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنی سیرت میں خواتین کے مقام، تعلیم کی اہمیت، عدل، سماجی انصاف، اور رواداری جیسے اصول قائم کیے جو ہر دور میں انسانیت کی فلاح کے ضامن ہیں اور کہا کہ نوجوان امتِ مسلمہ کے معمار ہیں اور انہیں اپنی شناخت اور رہنمائی سیرت النبی ﷺ سے حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان معلومات کے طوفان میں اپنی پہچان کھو بیٹھا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہی وہ ذریعہ ہے جو فکر، اخلاق اور کردار میں توازن پیدا کرتی ہے اور زندگی کو مقصد عطا کرتی ہے۔ڈاکٹر ابرار احمد نے اپنے خطاب میں سیرت النبی ﷺ کے فکری اور سماجی پہلوؤں پر جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے معاشرے میں توازن، عدل اور علم کی بنیاد پر نظام قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فکری آزادی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ نوجوان اگر سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنی سوچ اور عمل کا حصہ بنا لیں تو معاشرہ امن، برداشت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر احمد محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت النبی ﷺ علم و عرفان کا ایک آفاقی ماڈل پیش کرتی ہے جو رحمت اور عدل پر مبنی ہے۔ڈاکٹر زاہدہ ملک نے نبی اکرم ﷺ کے خواتین کے بااختیار ہونے اور اخلاقی تعلیم کے تصور پر روشنی ڈالی.ڈاکٹر ضیاءالرحمن نے اپنے خطاب میں عصرِ حاضر میں اخلاقی زوال کے چیلنجز پر گفتگو کی ڈاکٹر فیضان احمد نے کہا کہ آپ ﷺ کی سیرت عالمی امن اور انسانی یکجہتی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ڈاکٹر عذرا پروین نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ محض تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ، عملی ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو فکر، عمل اور اخلاق کے ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔کانفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین ، احمد سعید ممتاز، ڈاکٹر سجیلا کوثر، ڈاکٹر عبدالقدوس، ڈاکٹر فریده یوسف، ڈاکٹر منّزہ حیات اور ڈاکٹر یاسر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں خصوصاً نوجوانوں کی اخلاقی و فکری تربیت، تعلیم، قیادت اور معاشرتی ہم آہنگی پر مدلل گفتگو کی۔پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین نے سیرتِ نبوی ﷺ میں شامل جامع قیادت اور رحم دلی کے اصولوں پر روشنی ڈالی۔ احمد سعید ممتاز نے سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو نوجوانوں میں اخلاقی بیداری کا ذریعہ قرار دیا۔ ڈاکٹر سجیلا کوثر اور ڈاکٹر فریده یوسف نے اسلامی معاشرے میں عورت کے باعزت اور فعال کردار پر گفتگو کی، جب کہ ڈاکٹر منّزہ حیات، ڈاکٹر خانم اور ڈاکٹر یاسر نے تعلیم و تربیت کے نظام میں سیرت کے اصولوں کے انضمام پر زور دیا ڈاکٹر عبدُالقدّوس نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے نوجوانوں کی شخصیت سازی کردار، علم اور خدمتِ خلق کی بنیاد پر کی۔ آپ ﷺ کا طرزِ قیادت آج بھی ایک مثالی تربیتی ماڈل ہے جو نوجوانوں میں اخلاقی استقامت اور فکری پختگی پیدا کرتا ہے۔کانفرنس میں مختلف مقررین نے تحقیقی مقالات پیش کیے جن میں “سیرت النبی ﷺ اور نوجوانوں کی فکری تربیت” کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات انسان کو تعصب،انتہاپسندی، اور نفرت سے پاک کر کے انسانیت کا پیغام دیتی ہیں آج سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو حقیقت سے دور کر کے ایک مصنوعی دنیا میں قید کر دیا ہے، ایسے میں سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ ان کے ذہنوں کو توازن، شعور اور مثبت سمت عطا کرتا ہےتقریب میں رجسٹرار، ڈاکٹر ثمینہ اختر، سابقہ رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان مختلف شعبہ جات کی چیئرپرسنز، فیکلٹی ممبران اور بڑی تعداد میں طالبات نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر رقیہ اور ڈاکٹر مکیہ نے نہایت خوبصورتی اور وقار کے ساتھ انجام دی۔اختتامی لمحات میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے معزز مہمانانِ گرامی کو ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔











