پنجاب اور چین کے مابین زرعی تعاون میں اہم پیش رفت؛ لاہور میں اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

13

لاہور، 21 نومبر (اے پی پی): صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی قیادت میں گزشتہ ماہ چین کے کامیاب دورے کے بعد چین کا اعلیٰ سطحی زرعی وفد لاہور پہنچا، جہاں مقامی ہوٹل میں محکمہ زراعت پنجاب کے حکام کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو اور سیکرٹری لائیو اسٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ چینی وفد کی قیادت ضعیم سیکھو کر رہے تھے۔ سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ تعاون کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر زراعت پنجاب کے حالیہ دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 5 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ افتخار علی سہو کے مطابق ان مفاہمتی یادداشتوں میں فصلوں کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ، کپاس کی بحالی، بیج کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام میں تکنیکی معاونت اور ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن پروگرام شامل ہیں۔ ملاقات میں ورکنگ گروپس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا اور ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے عملی تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ صوبے میں ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن کا بڑا سکوپ موجود ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق زراعت کی جدید خطوط پر تبدیلی کے لیے چین کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب زراعت کے شعبے کو ٹرانسفارم کرنے کے لیے فیاضانہ وسائل فراہم کر رہی ہیں۔ چینی وفد نے پنجاب کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین جدید زرعی ٹیکنالوجی میں عالمی لیڈر ہے اور پنجاب میں ہائی ٹیک میکانائزڈ فارمنگ کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی۔ چینی وفد نے اعلان کیا کہ جدید ترین زرعی مشینری کی تیاری کے لیے پنجاب میں پلانٹس لگائے جائیں گے، جس سے مقامی سطح پر تیار کردہ مشینری کاشتکاروں کی قوت خرید کے عین مطابق ہوگی۔ چینی نمائندوں کے مطابق پنجاب میں تیار کی جانے والی یہ مشینری نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ بیرون ملک برآمد بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کے زرعی ماہرین پنجاب کے زرعی سائنسدانوں کی کپیسٹی بلڈنگ میں عملی کردار ادا کریں گے، جس سے صوبے میں جدید کاشتکاری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔