افغانستان کی سرزمین دہشتگردانہ حملوں کیلئے استعمال کی جا رہی ہے، افغان قیادت اپنی سرزمین کے غلط استعمال کو ختم کرنے کیلئے تحریری یقین دہانی کرائے، دفتر خارجہ کے ترجمان کی پریس بریفنگ

12

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اپنے اس موقف کو پھر دہرایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردانہ حملوں کےلئے استعمال کی جا رہی ہے جس میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح اشارے ملے ہیں، افغان قیادت اپنی سرزمین کے اس غلط استعمال کو ختم کرنے کےلئے تحریری یقین دہانی کرائے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کابل میں علمائے کرام کے ایک اجتماع کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کو خطرہ یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

ترجمان نے قرارداد کو مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے صورت حال کی سنگینی کے احساس کا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس قسم کے وعدوں کا اظہار کیا گیا تھا لیکن وہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور برادر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کے دوران پاکستان نے افغانستان سے تحریری یقین دہانی پر اصرار کیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یقینی طور پر ہمیں اس معاملے پر افغان قیادت سے تحریری یقین دہانی کی ضرورت ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان سمیت دہشت گرد عناصر جو افغان سرزمین سے آپریٹ کر رہے ہیں، کو بھارت کی سرگرم حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں پاکستان کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن جادھو اور جعفر ایکسپریس پر حملہ ایسی بے شمار مثالوں میں شامل ہے۔ بھارت کی طرف سے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین اور بین الاقوامی حقوق کے اداروں کی رپورٹس نے مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزیوں کو منظر عام پر لایا ہے جس میں حالیہ پہلگام حملے کے بعد تقریباً 2,800 افراد کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کو مکمل طور پر حاصل ہونے تک غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ترجمان نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے دو روزہ دورہ اسلام آباد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دوطرفہ دفاعی تعاون اور غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی استحکام فورس میں حصہ لینا کسی بھی ملک کا خود مختار فیصلہ ہوگا، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ایسا خود مختار فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیاہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بغیر کسی رکاوٹ کے نقل و حرکت فراہم کرنے کی خواہش کے تحت افغانستان کو انسانی امداد کی منظوری دےدی ہے اور یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اسے حاصل کریں۔ سارک کے عمل کو بھارت کی جانب سے روکنے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی کے لیے پرعزم ہے اور وہ جنوبی ایشیا میں ترقی، خوشحالی اور روابط کو مضبوط بنانے کےلئے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرے گا۔ ترجمان نے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی جانب سے بعض افراد کی حوالگی کےلئے برطانوی حکام کے ساتھ بات چیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ابھی تک پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ باضابطہ معاہدے کی عدم موجودگی میں حوالگی کے مقدمات کو کیس ٹو کیس کی بنیاد پر چلایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت سے بھی میڈیا کو آگاہ کیا جس میں انہوں نے دو طرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان مخالف ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں انتہائی اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے ادارے بشمول مسلح افواج قومی سلامتی کا ستون ہیں اور وہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کے تنازع نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ مادر وطن اور پاکستانی عوام کے کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف مناسب، موثر اور ذمہ دارانہ انداز میں دفاع کرنے کے عزم کا واضح ثبوت دیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیادت کی طرف سے پاکستان کے ریاستی ادارے اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہیں جو خطے اور اس سے باہر بھارت کی غیر مستحکم کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔