اقوامِ متحدہ: پاکستان کی اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی شدید مذمت

14

اسلام آباد، 30 دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں دوٹوک بیان دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے وفاقی جمہوریۂ صومالیہ کے خطے “صومالی لینڈ” کو تسلیم کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس حیثیت کو بدلنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے رکن ممالک،جن میں پاکستان بھی شامل ہے،نے اس غیر قانونی اقدام کو اجتماعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کے منشور کے منافی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کے خطۂ ہارن آف افریقہ اور عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے صومالیہ میں سیاسی اصلاحات، ادارہ جاتی بحالی اور سلامتی کے شعبے میں جاری پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اس مثبت عمل کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ صومالیہ کی وحدت کے خلاف تمام اقدامات کو یکسر مسترد کرے اور پاکستان کی جانب سے صومالی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔