اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جنرل فیض حمید کی سزا کسی حکومت یا جماعت کی فتح نہیں نہ کسی نے خوشی کے شادیانے بجائے ہیں، یہ فیصلہ ملک کے آئین اور قانون کی فتح ہے جس کے ملک کی آئندہ سیاست پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔
جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی تاریخ کا پہلا ایسا فیصلہ ہے جس میں جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت دی گئی ہے، اس فیصلے نے ملک کے حالیہ سیاسی بحران کے اصل محرکات واضح کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے تحت ملک کی انتہائی طاقتور سمجھے جانے والی شخصیت فیض حمید جو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، پاک فوج کی عسکری قیادت اور ادارے نے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز کیا ۔فوج میں اس سے پہلے ایسی مثال موجود نہیں تھی کہ فوج نے اپنے ہی کسی افسر کو سزا دی ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیس 15 ماہ تک چلا، فیض حمید کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا، انہیں ان کی مرضی اور پسند کی لیگل ٹیم کی اجازت دی گئی، اس کے بعد جو چار الزامات لگائے گئے وہ سچ ثابت ہوئے اور اس بناء پر انہیں 14 سال قید بامشقت دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ یہ فیز ون ہے، دوسرے فیز کی بات بعد میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کہ یہ فیصلہ نہ کسی حکومت اور نہ ہی کسی جماعت کی فتح ہے، نہ کسی نے خوشی کے شادیانے بجائے ہیں، یہ ملک کے آئین اور قانون کی سربلندی کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے سیاسی تاریخ میں دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے حالیہ سیاسی بحران کی جڑیں فیض حمید کے آئین سے بالاتر فیصلوں اور جوڑ توڑ کے اقدامات سے جڑی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہے، جنرل فیض نے اپنی آئینی حیثیت اور ریاستی عہدے کو اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کے طور پر آئین سے بالاتر ہو کر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے نام پر انہوں نے غیر آئینی اقدامات کر کے حکومتوں کو بنایا اور گرایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی اپنے ریاستی منصب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کرتا ہے تواس کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سے 10 سالوں سے ملک ان کے اقدامات کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو وزارت عظمی سے غیر آئینی طور پر ہٹایا گیا ،رانا ثناء اللہ ،خواجہ سعد رفیق اور حنیف عباسی سمیت ہمارے دیگر کئی وزراء کو پابند سلاسل رکھا گیا۔ دوسری طرف ایک جماعت کی لیڈرشپ کو سپورٹ کیا گیا اور مخصوص چہرے سامنے لائے گئے جس سے اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا ،جمہوری نظام کمزور ہوا اور معاشرے میں تقسیم پیدا ہوئی ۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جنرل فیض حمید کی پشت پناہی کی وجہ سے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا۔انہوں نے فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی، ان کے تمام غیر آئینی اقدامات سے ملک میں سیاسی عدم استحکام آیا، اس سزا کے بعد ملک کی سیاسی نظام میں کسی کو اس طرح کی کہانی دہرانے کی جرات نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے فوج کے اندرونی احتساب کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا ہے، اس پر فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی اب یہ سمجھ لے کہ اب ان کی پشت پر فیض حمید نہیں رہے ، اب انہیں اپنے پائوں زمین پر رکھنے چاہئیں، ان کی منفی سیاست کے اثرات سے پہلے ہی ملک بہت متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف ان کے ٹویٹس ایسے ہیں جو صرف بھارت ہی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں اللہ نے ہمیں فتح اور برتری عطا فرمائی، ہم نے بھارت کے چھ جہاز گرائے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف کی سربراہی میں ہمیں یہ کامیابی ملی اور ملک کو دنیا بھر میں اس کامیابی پر پذیرائی مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوا ہے، ہمارے دیگر دوست ممالک ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ایک شخص جیل میں بیٹھ کر ہمارے افواج ،ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف جو پروپیگینڈا کر رہا ہے وہ دنیا کا کوئی مہذب ملک قبول نہیں کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے غیر آئینی اقدامات سے فوائد حاصل کرنے والوں کے نام سامنے آنا ابھی باقی ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔











