سینیٹ کمیٹی کو سول سرونٹس کی کارکردگی کے جائزے کے نظام میں اصلاحات اور سی ایس ایس مقابلے کے امتحان کے ذریعے بھرتیوں میں اصلاحات کے تاریخی پس منظر پر بریفنگ

10

اسلام آباد ، 29دسمبر (اے پی پی):  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تفویض کردہ قانون سازی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔کمیٹی کے اجلاس میں سنٹرل سپیریئر سروسز (CSS) اور جنرل ریکروٹمنٹ امتحانات کے قواعد و ضوابط، نیشنل آرکائیوز ایکٹ 1993 اور آرکائیول میٹریل (تحفظ اور برآمدی کنٹرول) ایکٹ1975 کے تحت قواعد و ضوابط پر غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور سینیٹر روبینہ قائم خانی نے شرکت کی۔

کمیٹی کو سول سرونٹس کی کارکردگی کے جائزے کے نظام میں اصلاحات اور CSS مقابلے کے امتحان کے ذریعے بھرتیوں میں اصلاحات کے تاریخی پس منظر پر بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے ذریعے جنرل ریکروٹمنٹ کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا جو اس وقت کم از کم دو سال کا عرصہ لیتا ہے۔ سیکرٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ (CBT) متعارف کروا کر اس دورانیے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر اس وقت کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے جنرل ریکروٹمنٹ کے لیے ٹیسٹ کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور سبجیکٹو پیپرز کے بجائے ایم سی کیوز (MCQs) پر مشتمل دو ٹیسٹ متعارف کرائے گئے ہیں، اور اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں بھرتیوں کا عمل ایک سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان نے ایف پی ایس سی کو ہدایت کی کہ عملدرآمد کو تیز کیا جائے تاکہ بھرتیوں کا عمل کم وقت میں مکمل ہو سکے۔

کمیٹی نے سی ایس ایس (CSS) امتحان میں عمر میں رعایت اور کوششوں (Attempts) کی تعداد پر بھی غور کیا اور اس حوالے سے اپنی سابقہ سفارشات کو دہرایا کہ بالائی عمر کی حد اور کوششوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ تاہم سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری ایف پی ایس سی نے مؤقف اختیار کیا کہ سروس کی مدت اور زیادہ عمر کے امیدواروں کی شمولیت سے پیدا ہونے والے ممکنہ رویہ جاتی مسائل کے باعث ایسی تبدیلیاں قابلِ عمل نہیں ہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان نے اس بات پر زور دیا کہ عمر میں رعایت اور اضافی کوششوں سے دور دراز علاقوں، بالخصوص بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا، جہاں تعلیمی سہولیات محدود اور تعلیم کا آغاز اکثر تاخیر سے ہوتا ہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے تجویز دی کہ عمر میں رعایت دینے کے بجائے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو سول سروسز اکیڈمی (CSA) میں سی ایس ایس (CSS) کی تیاری کے کورسز کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کمیٹی کو CSS کے ذریعے خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور سینیٹر روبینہ قائم خانی نے خواتین کی افرادی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے خواتین دوست پالیسیوں پر زور دیا۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان نے ہدایت کی کہ ایسی پالیسیوں کو یقینی بنایا جائے، جن میں خواتین افسران کی پوسٹنگ ان مقامات پر کی جائے جہاں ان کے شوہر مقیم ہوں، تاکہ خاندانی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

سی ایس ایس(CSS) کے نصاب میں نئے مضامین کے تعارف کے حوالے سے ایف پی ایس سی (FPSC) نے کمیٹی کو بتایا کہ نصاب زیرِ نظرثانی ہے اور اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر عمر میں رعایت اور کوششوں کی تعداد (Attempts) کے حوالے سے اپنی سفارشات کو دہرایا اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔ وفاقی بیوروکریسی میں سینئر افسران کی مڈ کیریئر انڈکشن کے بارے میں بتایا گیا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) میں شمولیت ایف پی ایس سی (FPSC) کے زیرِ اہتمام انڈکشن امتحان کے ذریعے ممکن ہے، تاہم یہ سہولت صرف صوبائی مینجمنٹ سروس (PMS) افسران کے لیے ہے۔ چیئرپرسن سینیٹر نسیمہ احسان نے ایف پی ایس سی (FPSC) کے قواعد میں موجود اس بے ضابطگی کی بھی نشاندہی کی جس میں اقلیتوں میں بدھ مت کے پیروکاروں کا الگ ذکر کیا گیا ہے او ر‘‘شیڈولڈ کاسٹس’’ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے پرانے قوانین اور قواعد کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کمیٹی کو نیشنل آرکائیوز ایکٹ1993 اور آرکائیول میٹریل (تحفظ اور برآمدی کنٹرول) ایکٹ 1975 کے تحت قواعد و ضوابط کی تیاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ اراکین کو نیشنل آرکائیوز (ریسرچ اینڈ ریفرنس) رولز 2025 کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ آیا قومی آرکائیوز کی دستاویزات کے تحفظ، پیشکش اور نمائش کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسیمہ احسان نے تاریخی مقامات جیسے مہرگڑھ، نیری کلات (کیچ) اور دیگر مقامات سے حاصل ہونے والی قدیم دستاویزات کے تحفظ کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی آرکائیوز محکموں کے درمیان عدم رابطے کی نشاندہی کی۔انہوں نے آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے واضح شقوں کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی اور ہدایت کی کہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں آثارِ قدیمہ کے مقامات سے حاصل ہونے والی قدیم دستاویزات اور نیشنل آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کو جامع بریفنگ دی جائے۔