قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور اصول پسندی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے، قائداعظم نے اپنی زندگی میں کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، عطاء اللہ تارڑ

16

اسلام آباد۔25دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور اصول پسندی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے، قائداعظم نے اپنی زندگی میں کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں کنونشن سنٹر میں  “قائد کا پاکستان ۔ اڑان پاکستان” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے قائد کی زندگی، افکار، ان کے وژن اور اصولوں کو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی۔ 1876ء میں وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح کی زندگی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے، قائداعظم کے تین سنہری اصول اتحاد، تنظیم اور یقین محکم ان کی کامیابی کی بنیاد تھے۔

انہوں نے کہا کہ 1892ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے محض 16 سال کی عمر میں لندن جا کر اپرنٹنس شپ کی اور اس دوران انہوں نے قانون کے شعبے کو بطور کیریئر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان کسی مقصد کو پختہ عزم کے ساتھ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ قائداعظم نے بیرسٹر بننے کے لئے لنکنز ان جانے کا فیصلہ کیا، تاریخ دان یہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے لنکنز ان کا انتخاب اس لئے کیا کہ لنکنز ان کی بلڈنگ کے اندر قانون سازوں کی فہرست میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بطور لا گیور (Lawgiver) درج تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح 19 سال کی عمر میں بیرسٹر بنے اور انہیں برصغیر کے کم عمر ترین بیرسٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عزم، یقین اور مسلسل محنت سے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بھرپور جدوجہد اور محنت کو اپنا شعار بنایا۔ ان کی زندگی کا اگلا مرحلہ ایک قانون دان اور سیاستدان کے طور پر دو بنیادی ستونوں اصول اور پیشہ ورانہ صلاحیت پر مشتمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس سے قائداعظم محمد علی جناح کی راہیں اصولی اختلاف کی بنیاد پر جدا ہوئیں، اس وقت کانگریس جو کچھ کرنا چاہ رہی تھی وہ قائداعظم کو قابل قبول نہیں تھا۔ انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قائداعظم کا 1908ء کا فیروز شاہ مہتہ کیس ضرور پڑھیں جو لوکل گورنمنٹ سے متعلق تھا۔ اس مقدمے میں قائداعظم نے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ فیروز شاہ مہتہ کو ممبئی کارپوریشن میں بحال کروایا جس کے بعد قائداعظم کے پاس مقدمات کی قطار لگ گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قائداعظم نے دو قومی نظریئے کا اصول کبھی ترک نہیں کیا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے بھارت میں خاتون کا حجاب کھینچنے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہندوتوا نظریئے کی انتہاء پسندی کا ثبوت ہے۔ یہ محض ایک خاتون کی بے حرمتی نہیں بلکہ پوری دنیا کی خواتین کی تذلیل ہے۔ ہندوتوا نظریہ آج قائداعظم کے دو قومی نظریئے کو درست ثابت کر رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ دو قومی نظریئے پر ہمارا یقین مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور یہی نظریہ قیام پاکستان کی بنیاد بنا، اسی نظریئے کے باعث آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ ہمیشہ درست رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1940ء میں آل انڈیا ریڈیو پر منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران قائداعظم محمد علی جناح نے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگایا جس سے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی امید اور جدوجہد کے لئے مزید حوصلہ ملا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے نہ صرف مسلمانوں کو آزادی دلائی بلکہ تاریخ میں ایک ایسا نقش چھوڑا جو ہمیشہ قائم رہے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہماری شناخت اور ہمارا فخر ہے، آج دنیا پاکستان کو ایک اہم اور باوقار ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور اس کی سافٹ پاور اور دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ملک کی قدر کرنی چاہئے، پاکستان  “لا الہ الا اللہ ”کے نعرے پر قائم ہوا اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اسی وطن کی بدولت ہے۔