اسلام آباد،18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے تخلیقی ذہنوں کے لئے ملازمتوں کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ہمیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں توازن قائم کرنا ہوگا۔
جمعرات کو نیشنل سائبر سکیورٹی کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آبادیاتی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے،جب ہم پاکستان کے سائبر اسپیس کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں 11 کروڑ 70 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین، 14 کروڑ 80 لاکھ موبائل براڈ بینڈ صارفین اور 7 کروڑ 90 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ ان آبادیاتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ڈیجیٹل سائبر سپیس کو دو واضح کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ سائبر سپیس میں بھی دو قسم کے افراد ہیں، ایک طبقہ ڈیجیٹل امیگرینٹس جو اس ارتقائی سفر کا حصہ رہے ہیں جبکہ دوسرا طبقہ ڈیجیٹل نیٹیوز کا ہے جو اس نظام میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیٹیوز کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال فطری امر ہے جبکہ ڈیجیٹل امیگرینٹس اب بھی سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے ہم آہنگ ہونے کے عمل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکورٹی سے متعلق آگاہی کے لئے کوئی ایک جامع حل ایسا نہیں ہو سکتا جو سب کے لئے یکساں طور پر موثر ہو۔ مختلف طبقات تک موثر رسائی کے لئے مختلف ذرائع، مختلف طریقہ کار اور مختلف اصطلاحات اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سائبر سپیس نے تیز رفتار ارتقاء دیکھا ہے تاہم میڈیا منطر نامے کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں روایتی ذرائع ابلاغ سے الیکٹرانک میڈیا تک بتدریج، منظم اور فطری ارتقائی عمل وقوع پذیر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ روایتی میڈیا یعنی پرنٹ میڈیا ایک مکمل ارتقائی عمل کے تحت الیکٹرانک میڈیا میں تبدیل ہوا۔ اس دوران ادارتی نگرانی موجود تھی، ادارتی بورڈز کا نظام تھا اور 2000ء کی ابتدائی دہائی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں جب عالمی رہنماؤں سے سوال کیا گیا کہ ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہیں تو کسی نے بھی جوہری جنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو نہیں بلکہ مس انفارمیشن اور جھوٹی خبروں کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے اس حوالے سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ پیش آتے ہی سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی بھرمار دیکھنے میں آئی اور حملہ آور کے نام کو دیکھتے ہی ڈیجیٹل سپیس میں بعض نام نہاد ذمہ دار میڈیا اداروں نے فوری طور پر یہ الزام عائد کر دیا کہ حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جو آج بھی دہشت گردی کا نشانہ ہے اور مسلسل دہشت گردوں کے خلاف برسرِپیکار ہے، اس کے بارے میں بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی مستند معلومات کے اس نوعیت کے الزامات لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔











