اسلام آباد،01 دسمبر(اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے جیسے فوری اور اہم چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بات پیر کو’’پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 ‘‘سے خطاب کے دوران کہی۔وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ تقسیم کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ وہ شعبے جنہیں سب سے زیادہ فوری توجہ کی ضرورت ہے، ان میں سرمایہ کاری اور اقدامات کو ترجیح دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر ہونے والے آئندہ مذاکرات اتفاق رائے کے ذریعے طے پائیں گے تاکہ تمام فریقین کے مفادات کا توازن برقرار رہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک آئندہ دس سالوں کے دوران ہر سال دو ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے چھ اہم ایجنڈا آئٹمز میں سے چار، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی جیسے ملکی اہم مسائل پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے منصوبے اور اقدامات تیار کیے جائیں جو ان چیلنجز سے نمٹنے میں مؤثر ثابت ہوں۔
وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان جلد اپنا پہلا اسکلز امپیکٹ بانڈ شروع کرے گا، جس کا مقصد نوجوانوں کی مہارتوں کو بہتر بنانا اور انہیں ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرنا ملک کی معاشی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔انہوں نے اس موقع پر کہاکہ ہمیں فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹا جا سکے اور ملک کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 میں مختلف حکومتی محکموں، ماہرین، ترقیاتی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جہاں آبادی، صحت، تعلیم اور غذائیت کے شعبوں میں مربوط حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔











