اسلام آباد،17دسمبر (اے پی پی): وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ادارے میں متعارف کرائے گئے اصلاحاتی اقدامات کے باعث وفاقی محتسب کی عوام تک رسائی اور پہنچ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں نئے علاقائی دفاتر کے قیام کے بعد مرکزی دفتر سمیت ملک کے دور دراز علاقوں کے 28 شہروں میں وفاقی محتسب کے دفاتر اور شکایات مراکز قائم ہو چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ نئے دفاتر کے قیام، جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی، واٹس ایپ چینل، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے مؤثر استعمال، کھلی کچہریوں، آؤٹ ریچ کمپلینٹ ریزولوشن (OCR) پروگرام اور سرکاری دفاتر کے معائنوں جیسے اقدامات کے نتیجے میں سال 2025ء کے دوران وفاقی محتسب سے ریلیف حاصل کرنے والوں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بچوں کی شکایات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد چار لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔
اعجاز احمد قریشی کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں 12 نئے علاقائی دفاتر قائم کیے گئے، جس کے بعد ہیڈ آفس سمیت علاقائی دفاتر اور شکایات مراکز کی مجموعی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ کھلی کچہریوں اور OCR پروگرام کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کے گھر کے قریب مفت انصاف میسر آ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب کا واٹس ایپ چینل رواں سال مارچ میں شروع کیا گیا، جبکہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے استعمال سے اب لوگ گھر بیٹھے انصاف حاصل کر رہے ہیں۔
وفاقی محتسب نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 15 دسمبر تک 246,602 شکایات کے فیصلے کیے جا چکے ہیں، جبکہ انٹرنل ریفارمز ڈائریکٹوریٹ (آئی آر ڈی ) کے تحت 6,960 شکایات نمٹائی گئیں۔ بیرونِ ملک مقیم 128,427 پاکستانیوں کو ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ بچوں سے متعلق 653 شکایات کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ان تمام کو شامل کیا جائے تو رواں سال شکایات کی مجموعی تعداد چار لاکھ کے قریب بنتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 1983ء میں ادارے کے قیام سے لے کر اب تک 25 لاکھ 58 ہزار سے زائد خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں ایک اوسط خاندان چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے، اس طرح یہ ریلیف ایک کروڑ سے زائد افراد تک پہنچتا ہے۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک الگ سیکشن قائم کیا گیا ہے، جو صرف فیصلوں پر عملدرآمد کرواتا ہے۔ رواں سال فیصلوں پر عملدرآمد کی شرح 93 فیصد سے زائد رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 45 فیصد سے زائد شکایات آن لائن موصول ہوئیں، جبکہ شکایت کنندگان موبائل ایپ، ویب سائٹ اور ای میل کے ذریعے بھی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ شکایات کی سماعت بھی آن لائن ہوتی ہے، جس کے لیے دفتر آنے کی ضرورت نہیں رہتی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارے کی تاریخ میں پہلی بار اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر افسران اور ملازمین کو ایوارڈز دینے کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈز ان افسران اور ملازمین کو دیے جا رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ مجموعی کارکردگی میں بھی مزید بہتری آئے گی۔











