لاہور، 17 دسمبر ( اے پی پی ) وزیرِ خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پنجاب دانش سکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلینس اتھارٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے دانش سکولز پروجیکٹ میں پیشرفت اور اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر احمد ملک نے وزیرِ خزانہ کو ادارے کے تعلیمی، انتظامی اور ترقیاتی امور پرتفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں پنجاب کے پسماندہ و کم خواندہ اضلاع میں 6 دانش سکولوں سے آغاز کیے جانے والا یہ منصوبہ آج 20 سکولوں تک پھیلا چکا ہے جہاں پاکستان بھر سے 13,197 نادار طلبہ و طالبات قیام و طعام کی سہولیات کے ساتھ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ دانش سکولوں میں بچوں کو تدریسی سہولیات کے ساتھ کھیلوں اور ہم نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے بھی بھر پور مواقع میسر لیے جا رہے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ طالبات کو نجی یونیورسٹیوں میں داخلوں کے ساتھ تعلیمی وظائف بھی دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہاسٹلز کی سہولت کے ساتھ پنجاب کے غیر ترقیاتی اضلاع میں سکولوں کی تعمیر کے لیے اتھارٹی ایریا کی ڈویلپمنٹ کے اخراجات بھی برداشت کر رہی ہے۔مزید برآں دانش سکولز سے صرف پنجاب کی نہیں دیگر صوبوں کے مستحق طلباء بھی مستفید ہو رہے ہیں ۔ اس وقت دانش سکولز اتھارٹی کے سینٹرز آف ایکسیلنس میں 25٫632 طلبہ زیر تربیت ہیں۔
وزیرِ خزانہ پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ دانش سکولز مسلم لیگ (ن) کا ایک فقید المثال تعلیمی منصوبہ ہے، جس کا مقصد صوبے کے ان اضلاع کی بحالی تھا جو غربت اور پسماندگی کی بلند ترین سطح کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کی بے جا تنقید نے اگرچہ اس منصوبے کی رفتار کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم آج یہی منصوبہ اپنی کامیابی کی روشن مثال خود بن چکا ہے۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ دانش سکولز میں داخلے کا معیار آج بھی وہی ہے جو منصوبے کے آغاز کے وقت طے کیا گیا تھا اور آج بھی ہمارے مشن کا عکاس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج بھی دانش سکولز میں یتیم، مسکین اور نادار بچوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور میرٹ کے بنیاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ یہاں یہ امر بھی خوش ا ئند ہے کہ اتھارٹی دانش سکولز میں طلبہ و طالبات کو ہاسٹل، مفت تدریسی سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل لرننگ اور فری لانسنگ کے مواقعےمہیا کر رہی ہے تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح دانش سکولز صرف مستحق طلبہ ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے مستقبل کو بھی محفوظ بنانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سکولوں میں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ عملی مہارتوں کے ساتھ میدانِ عمل میں آگے بڑھ سکیں۔
وزیرِ خزانہ پنجاب نے دانش سکولز اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی غیر ترقی یافتہ اور دور دراز علاقوں میں جن میں صحرا بھی شامل ہیں سکولوں کی تعمیر، تدریسی سہولیات اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانا بلاشبہ ایک مشکل ٹاسک ہے جسے اتھارٹی بخوبی سر انجام دے رہی ہے خصوصاً بلوچستان کے بارڈر کے نزدیک دستیاب زمین پر سکول کی تعمیر قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے تعلیمی وژن کے تحت دانش سکولز منصوبے کو مزید وسعت دے رہی ہے اور رواں مالی سال کے دوران چار نئے دانش سکولز مکمل کیے جائیں گے۔ دانش سکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلنس اتھارٹی کو پنجاب حکومت کی جانب سے پر ممکن سہولت مہیا کی جائے گی ۔











