اسلام آباد، 3 دسمبر ( اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے قومی ٹیرف کمیشن (NTC) کی جدید کاری کے لیے وزیرِاعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، جناب ہارون اختر خان, اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب منصور عثمان اعوان، قومی ٹیرف کمیشن کے اراکین اور وزارتِ تجارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں قومی ٹیرف کمیشن کے بنیادی مقاصد، مہارت، اور مینڈیٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں ڈبلیو ٹی او کے ٹریڈ ریمیڈی قوانین، تصفیہِ تنازعات کے طریقہ کار، ٹیرف میں اصلاحات، اور وسیع تر تجارتی پالیسی سے متعلق ذمہ داریاں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک جدید، مؤثر اور شفاف ٹیرف نظام ملک کی معاشی استحکام، مقامی صنعتوں کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی تقاضوں کی پاسداری کے لیے نہایت ضروری ہے۔
اجلاس میں این ٹی سی کی مجوزہ اصلاحات پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، تکنیکی مہارت کو مضبوط بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح قرار دیا گیا۔ مزید یہ کہ کمیشن کو مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا تاکہ فیصلوں میں مؤثر اور بروقت عمل ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ این ٹی سی کو درپیش موجودہ رکاوٹوں، بالخصوص کاؤنٹر ویلنگ میئرز اور سیف گارڈ انسٹرومنٹس کے نفاذ میں حائل مشکلات، جو قومی مصنوعات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی نے ان طریقہ کار اور ساختی رکاوٹوں کے ازالے کی ضرورت پر زور دیا جو غیر منصفانہ تجارتی رویّوں کے خلاف کمیشن کی بروقت اور مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔











