وفاقی ٹیکس محتسب کی تاریخی کارکردگی: ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں ریکارڈ اضافہ، 98 فیصد سفارشات پر عمل درآمد

14

اسلام آباد،10  دسمبر(اے پی پی ): وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے بدھ  کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ایف ٹی او سیکرٹریٹ ملک کے سب سے قابل اعتماد شکایات کے ازالے کے فورمز میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے، جہاں شکایات کی وصولی میں غیر معمولی اضافہ، سفارشات پر عمل درآمد کا ریکارڈ اور پاکستان کے محتسب کے فریم ورک کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پہچان دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں سیکرٹریٹ کی کارکردگی نے ادارے پر ٹیکس دہندگان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کیا ہے۔ ڈاکٹر آصف محمودجاہ نے کہا کہ شکایات میں تیزی سے اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متاثرہ ٹیکس دہندگان اب ایف ٹی او کو شکایات کے ازالے کے لیے ایک قابل اعتماد، مؤثر اور ذمہ دار فورم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے بتایا کہ ستمبر 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ملک گیر آگاہی مہموں کے نتیجے میں شکایات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔2021 میں موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 2ہزار سے زائد تھی۔2022 میں یہ تعداد 6 ہزار 106، 2023 میں  7ہزار 889، اور 2024 میں12ہزار742 تک پہنچی۔

2025 میں اب تک سیکرٹریٹ کو35 ہزار 716 شکایات موصول ہوئی ہیں ، جو ایک تاریخی سنگ میل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے چار سالہ دور میں دائر کی گئی کل64 ہزار664 شکایات نے گزشتہ   21  برسوں پر محیط  ادوارکی مجموعی37 ہزار118 شکایات  نمٹانے کے ریکارڈ کو توڑا ہے۔ایف ٹی او  کے مطابق سیکرٹریٹ نے اپنے فیصلوں پر تقریباً عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے ایف ٹی او کی سفارشات پر عمل درآمد کی 98 فیصد شرح حاصل کی، جبکہ صدر مملکت نے ہمارے تقریباً 97 فیصد فیصلوں کو برقرار رکھا۔سیکرٹریٹ کی کوششوں کے نتیجے میں 23 ارب روپے سے زیادہ کی وصولیاں یقینی ہوئیں۔ ان کے مطابق شکایات نمٹانے کا اوسط وقت دیگر نگرانی کرنے والے اداروں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ ڈاکٹر جاہ نے کہا کہ پاکستان کی محتسب برادری نے حالیہ برسوں میں غیر معمولی عالمی پہچان حاصل کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025  میں پبلک سیکٹر انٹرن شپ پروگرام کے تحت 150 سے زائد نوجوان شرکاء کو شکایات کے ازالے، تحقیق اور کوآرڈینیشن کا عملی تجربہ فراہم کیا گیا۔ایف ٹی او نے آخر میں کہا کہ یہ کامیابیاں شفافیت، کارکردگی اور ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکرٹریٹ کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہیں۔