اقوامِ متحدہ، 09 دسمبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی روح کئی دہائیوں میں اپنی سب سے بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے ہلسنکی فائنل ایکٹ کے دیباچے جس کی بنیاد کثیرالجہتی اور ناقابلِ تقسیم سلامتی کے اصولوں پر ہے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایسی صورتِ حال میں روحِ ہلسنکی کو دوبارہ زندہ کرنے، محاذ آرائی سے گریز کرنے، اور مکالمے و سفارت کاری میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ایسے باہمی طور پر طے شدہ اعتماد اور سلامتی بڑھانے کے اقدامات (CSBMs) کی تجدید کی بھی ضرورت ہے، جو دنیا کو پہلے بھی بحرانوں سے نکال چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تناؤ کو کم کرنے، ضروری مواصلاتی چینلز کو بحال کرنے، اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جامع سلامتی تعاون پر مبنی ذرائع سے بہتر طور پر محفوظ کی جا سکتی ہے، نہ کہ تسلط اور فوجی غلبے کی خواہش کے ذریعے۔انہوں نے کہا کہ OSCE، جس کی بنیاد ہلسنکی فائنل ایکٹ کی روح پر رکھی گئی، نے مکالمے کے فروغ، اعتماد سازی، اور پرامن تنازع حل کے لیے ایک ناگزیر فریم ورک فراہم کیا، خصوصاً اس دور میں جب عالمی سطح پر شدید بے اعتمادی اور سلامتی کے بڑے خلا موجود تھے۔
سفیر عاصم افتخار نے مشرقی یورپ سمیت خطے میں امن و استحکام کے لیے OSCE کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اعتماد سازی کے حوالے سے اس کے ابتدائی کام نے دیگر علاقائی تنظیموں کے لیے بھی ایک نمونہ فراہم کیا۔
پاکستان نے سلامتی اور امن کے فروغ میں اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں، خصوصاً OSCEکے درمیان تعاون کی اپنی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔











