اسلام آباد،24دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کے بعد پی آئی اے ایک نئی اڑان بھرے گی اور اس کی عظمت رفتہ بحال ہوگی، سچے دل سے قوم کی خدمت کرنے والے قوم کے سروں کا تاج ہیں، خسارے میں چلنے والے اداروں کی شفاف طریقے سے نجکاری کی جائے تاکہ قوم کے خون پسینے کا پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ ہو۔
بدھ کو یہاں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرنے والی حکومتی ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ سادہ اور پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا مرحلہ کل بہترین طریقے سے ملکی مفاد میں پایہ تکمیل کو پہنچا، ماضی میں بھی اس حوالہ سے کئی کاوشیں کی گئیں جو بوجوہ کامیاب نہ ہو سکیں، ہم نے پہلے بھی ایک کوشش کی جو ناکامی سے دوچار ہو گئی لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور اس دشوار کام کو دوبارہ تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی۔
اس سلسلہ میں پیشہ وارانہ انداز میں ٹیم ورک، کوآرڈینیشن اور مختلف وزارتوں کے مابین مشاورت سمیت تمام مراحل مکمل کئے اور رواں ماہ کے اوائل میں بولی میں ممکنہ حصہ لینے والے بڈرز کے ساتھ میں نے ملاقات کی جس میں سیر حاصل گفتگو ہوئی، ان کے جائز خدشات کو دور کیا گیا اور مشاورت سے بولی کیلئے 23 دسمبر کی تاریخ طے ہوئی، بولی کا عمل بھی باہمی مشاورت سے طے کیا تاکہ شفاف طریقے سے براہ راست نشریات کے ذریعے سارا عمل سب کے سامنے اور سب کو ہوتا ہوا نظر آئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق بولی کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے ساتھ مشاورت کے مراحل طے ہوئے جس کے بعد کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔ ریفرنس پرائس کے حوالے سے پرائیویٹائزیشن کمیشن نے اپنی ساری ورکنگ کے بعد کابینہ کو 100 ارب روپے کی ریفرنس پرائس بتائی جس کی کابینہ نے منظوری دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بڈنگ کا عمل ساری قوم نے دیکھا، مسابقتی بولی کے ذریعے 135 ارب روپے کی بولی لگی اور اس طرح پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز پرائیویٹائز کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 100 ارب روپے ریفرنس پرائس کے مقابلہ میں 135 ارب روپے کی بولی لگی، اس طرح باقی ماندہ 25 فیصد شیئرز ،جو حکومت کے پاس ہیں، کی قیمت بھی خود بخود اسی سطح پر آ گئی۔
انہوں نے کہا کہ 135 ارب روپے کو اگر حکومت کے 25 فیصد شیئرز کے ساتھ ایڈ کریں تو 180 ارب روپے بنتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس عمل میں تمام رفقاء نے بھرپور عرق ریزی اور تندہی کے ساتھ انسانی امکان کی حد تک جو بھی وسیع ملکی مفاد میں فیصلے کئے جا سکتے تھے، وہ کئے، ماضی میں جو ناکامیاں ہوئیں ان سے سبق سیکھتے ہوئے انہیں دہرایا نہیں گیا، آخری مراحل میں بولی دینے والوں کا اعتماد بڑھانے کیلئے جو فیصلے کئے گئے اس سے ان کا اعتماد بڑھا۔
وزیراعظم نے شفاف طریقے سے بولی کا عمل مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ عوام کی دعائوں کی بدولت پی آئی اے جس کا سلوگن ”گریٹ پیپل ٹو فلائی ود” تھا اور فرینکفرٹ اور لندن سمیت دنیا کے اہم مقامات پر اس کا ڈنکا بجتا تھا ،نئی سرمایہ کاری سے پی آئی اے کی عظمت رفتہ بحال ہو گی اور جدید آلات اور نئے جہازوں کی شمولیت سے پی آئی اے کی اڑان نئی بلندیوں پر ہو گی اور یہ قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔
وزیراعظم نے بولی کے ذریعے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے حکومتی ٹیم کے ”سٹار پلیئرز” کو بھی مبارکباد دی جن کی شبانہ روز محنت سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔اس سلسلہ میں انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز ، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم اور چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن محمد علی اور ان کی ٹیم کی غیر معمولی کاوشوں اور تعاون کو سراہا۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کے افسران عثمان اختر باجوہ، اسد حسین اور ذیشان حسین کو بھی شاباش دی۔ انہوں نے چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کو سٹار بیٹسمین قرار دیتے ہوئے ان کی محنت اور خدمات کے اعتراف میں انہیں 23 مارچ کو اعزاز سے نوازنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کی تقریب ان عظیم ہیروز کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے جنہوں نے پی آئی اے کی نجکاری میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی آئی اے ایک ایسا ادارہ بن گیا تھا جس پر قوم کے خون پسینے کی کمائی کا 35 ارب روپے سالانہ خرچ ہو رہا تھا، نااہلی اور کرپٹ پریکٹسز سے ہونے والا نقصان الگ تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سچے دل سے قوم کی خدمت کرنے والے ہمارے سروں کا تاج ہیں جو غربت، بے روزگاری، قرضے ختم کرانے اور معیشت کو خوشحال اور توانا بنانے کیلئے پوری محنت اور دیانتداری سے کام کر رہے ہیں اور جو اس پالیسی سے ہٹ کر ہیں ان سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خسارہ کرنے والے اداروں کو فی الفور شفاف طریقے سے آف لوڈ کیا جائے، سالانہ نقصانات کا خاتمہ کیا جائے اور قوم کا پیسہ ملک کی ترقی و خوشحالی پر خرچ ہو۔ وزیراعظم نے تقریب میں پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو بہترین طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی حکومتی ٹیم کے ممبران کو ایوارڈز بھی دیئے۔











