اقوامِ متحدہ، 20 جنوری (اے پی ):* پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کا گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ، اور اس کے بعد ہونے والی سنگین خلاف ورزیاں، جن میں زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں بغیر اطلاع رکاوٹیں ڈالنا اور ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنا شامل ہے، پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے بھارت کے اس فیصلے کو ایک ایسے ملک کا اقدام قرار دیا جو دانستہ طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر پوری طرح نافذ العمل ہے اور اس میں کسی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے طاس میں پانی کے منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کرتا آ رہا ہے۔











