اسلام آباد ،22جولائی(اے پی پی):ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی وزارت داخلہ پہنچے جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ایرانی وفد کے اراکین کا وزیر داخلہ محسن نقوی سے جبکہ پاکستانی وزارت داخلہ کے ذیلی اداروں کے سربراہان کا ایرانی وزیر داخلہ سے تعارف کرایا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے افغان سرحد سے منشیات اور دہشتگردی روکنے کے لیے مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔دوطرفہ اشتراک کار بڑھانے کے لیے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے امن کے لیے غیر معمولی کام کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب بھی اچھی خبر جلد سامنے آئے گی اور امن قائم ہو گا۔
ایرانی وفد میں گورنر جنرل سیستان بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر اربن ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ بھی موجود تھے۔











