اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو بجلی کی طلب میں کمی کی صورتحال کا ادراک ہے، حکومت مختلف اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ نیپرا کہتا ہے گردشی قرض میں کمی اصلاحات سے نہیں آئی یہ غلط ہے، ہم نے نقصانات کو 183ارب کم کیا، لیٹ پیمنٹ سرچارج 260اور اصلاحات سے 300ارب کا بوجھ کم کیا۔
اویس لغاری نےنیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے رپورٹ میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، بجلی کے نقصانات صارفین کو منتقل نہیں ہوتے،40 ارب روپے کی اوور بلنگ کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ غیرضروری بجلی کا 17 ارب ڈالر کا بوجھ مکمل ختم کر دیا،سبسڈی سے ہونیوالے نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے،اصلاحات لاکر مسائل کم کر رہے ہیں، ایک سال میں میٹر ریڈر کا اختیار عام آدمی کو دیا گیا،5سے 6 سال میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرکے مستقبل کے 8000میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کئے، ان اقدامات کی بدولت ملک کو 17ارب ڈالر سے زائد بچت کا تخمینہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2025 کے دوران ڈسکوز کی وصولیاں 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.6 فیصد ہو گئیں،وصولیوں میں فرق 315 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں صرف 132 ارب روپے رہ گیا،وصولیوں کے فرق میں 183 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ،2026 (جولائی تا دسمبر) کے پہلے 6 ماہ میں بھی مسلسل بہتری جاری ہے، گزشتہ سال کی اسی مدت کی بہ نسبت وصولیوں میں 43 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے،حکومتی محکموں سے وصولیوں کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصدیق شدہ بلوں کی وفاقی ایڈجسٹر کے ذریعے 25 فیصد کی شرح سے وصولیاں کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ وہ ڈسکوز کی نااہلیوں میں بتدریج کمی لائے گی، جدید ترین سمارٹ فون ایپلیکیشن اپنا میٹر اپنی ریڈنگ اب تمام صارفین کیلیے دستیاب ہے،نیپرا کوبجلی صارفین کو 40 ارب روپے اور بلنگ کی مد میں واپسی پر ہمیں سر اہنا چاہیے تھا،ڈسکو زکی نا اہلی بجلی صارفین کو منتقل نہیں ہورہی، کمرشل نقصانات کی بنیاد پر لوڈمنیجمنٹ قومی بجلی پلان سے تصدیق شدہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں موئژ اور جامع ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے،ان اقدامات سے ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈمنیجمنٹ ممکن ہوسکے گی،نیپرا کی سمارٹ میٹر ز کے بارے میں معلومات میں کافی کمی ہے،اب تک 1.6 میلین سمارٹ میٹر ز نصب کیے جاچکے ہیں،ان سمارٹ میٹرز کی مواصلاتی دستیابی 90 فصد ہے،نیپرا کی میٹر ریڈنگ اور اوربلنگ سے متعلق معلومات بھی ناکافی ہے،بجلی صارفین کو اپنے میٹر کی خود ریڈنگ کا اختیار دیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی سطح پر بجلی کی قیمت میں واضع کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹ سروس سرچارج کے الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ذمہ داری کے باعث عائد کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل میں اصلاحات کی بدولت ملک کے عوام پر 400 ارب روپے کے بوجھ میں کمی کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاور سیکٹر میں 30 سے زائد اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آ نا شروع ہو گئے ہیں جن میں گردشی قرض میں نمایاں کمی، پاور سیکٹر میں بہتری ،پاور لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز میں خاطر خواہ کمی،ٹرانسفارمرز اور فیڈرز کی اوور لوڈنگ میں بہتری ،ملازمین کے مہلک حادثات میں واضح کمی شامل ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ پاور اور انرجی سیکٹر کو عالمی معیار پر لانے کا عزم عوامی تعاون کا طلبگار ہے۔











